نگراں وزیر اعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے کہا ہے کہ 20 فیصد بچے بغیر کتاب کے پڑھ رہے ہیں جو کہ ناقابلِ برداشت ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگراں وزیر اعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر کی زیر صدارت کالج اور اسکول ایجوکیشن کا اجلاس ہوا جس میں وزیر تعلیم رعنا حسین ، چیف سیکریٹری ڈاکٹر فخرعالم ،وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری حسن نقوی، سیکریٹری اسکولز شیرین ناریجو،سیکریٹری خزانہ کاظم جتوئی، سیکریٹری کالجز،سیکریٹری پلاننگ اصغر میمن اور دیگر شریک ہوئے۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نگراں وزیر اعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے سیکریٹری خزانہ کو 1 بلین روپے فوری جاری کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ فنڈز کی فراہمی سے کتابوں کی چھپائی کا عمل شروع ہوگا۔
جسٹس (ر) مقبول باقر نے اسکول کے بچوں کو نصابی کتب کی عدم فراہمی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ20 فیصد بچے بغیر کتاب کے پڑھ رہے ہیں جو کہ ناقابلِ برداشت ہے۔
نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے سیکریٹری کالج ایجوکیشن کو ہدایت کی کہ وہ کالجز کی انسپکشن کا نظام قائم کریں، میں نے کالج کا دورہ کیا تھا جہاں نہ تو بچے تھے اور نہ ہی واش روم، نہ تو کالج کی کوئی صفائی تھی اور نہ ہی کوئی لیب۔
جسٹس (ر) مقبول باقر نے کالج ایجوکیشن کو ہدایت دی کہ تمام کالجز کی الیکٹرانک مانیٹرنگ کی جائے جبکہ ہر کالج کو مضامین کے حساب سے اساتذہ دیئے جائیں۔
انہوں نے کالجز میں سبجیکٹ اور ضرورت کے مطابق اساتذہ کی ٹرانسفر اینڈ پوسٹنگ کی ہدایت کی اور کہا کہ جو لیکچررز کالج نہیں جارہے اور نہ ہی کلاسز لے رہے ہیں اُن کی لسٹ بنا کر اُن کو فارغ کیا جائے۔
نگراں وزیر اعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے مزید کہا کہ مجبوری کی حالت میں آن لائن کلاسز کرائی جائیں تاکہ بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو، میں دوبارہ کالجز کا دورہ کروں گا جہاں پر نظام بہتر نہیں ہوگا یا سبجیکٹ کے ٹیچرز نہیں ہوں گے تو میں ایکشن لوں گا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
