دنیا کے مشکل ترین فوجی مقابلے میں پاک فوج کے دستے نے چاندی کا تمغہ جیت لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان ہائی کمیشن لندن میں تعینات آرمی و ایئر اتاشی کرنل تیمور راحت کا کہنا ہے کہ ویلز میں منعقد کیمبرین پیٹرول کا شمار فوج کے مشکل ترین مقابلوں میں ہوتا ہے، یہ مقابلہ 1959 سے منعقد کیا جارہا ہے۔
کرنل تیمور راحت نے کہا کہ عالمی سطح پر اس مقابلے کو نیٹو کا سب سے مشکل پیٹرولنگ مقابلہ تصور کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقابلے میں مجموعی طور پر 113 ٹیمیں شامل تھیں جن میں بھارت سمیت 38 انٹرنیشل ٹیمیں بھی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی دستہ 67 پنجاب رجمنٹ پر مشتمل تھا جس کی قیادت لیفٹیننٹ اویس عثمان نے کی، پاکستانی دستہ کی جیت میں ٹیم منیجر میجر اسامہ اور آبزرور میجر حسیب نے اہم کردار ادا کیا۔
کرنل تیمور راحت کا کہنا تھا کہ کیمبرین پیٹرولنگ میں ٹیمیں 60 کلومیٹر کے علاقے میں 48 گھنٹوں کی مشقوں میں حصہ لیتی ہیں، مقابلوں میں جنگی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے جبکہ دھماکا خیز مواد سے بھی نمٹنا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مقابلے کے ذریعے فوجیوں کی جسمانی، ذہنی اور برداشت کا اعلیٰ درجے کا امتحان لیا جاتا ہے۔
پاکستان ہائی کمیشن لندن میں تعینات آرمی و ایئر اتاشی کرنل تیمور راحت کا مزیدکہنا تھا کہ پاکستان آرمی کے 67 پنجاب رجمنٹ نے مقابلے میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، 1972 میں بننے والی یہ بٹالین جنگوں میں 1 ستارہ بسالت اور 7 تمغہ بسالت حاصل کرچکی ہے۔
ایس پی ڈی سے منسلک سائنسدانوں اور انجنئیرز کے لئے اعزازات
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل اسٹریٹجک پلانز ڈویژن لیفٹیننٹ جنرل یوسف جمال نے اسٹریٹجک پلانز ڈویژن ایس پی ڈی کے 34 نامور سائنسدانوں اور انجینئرز کو اعٰلی کارگردگی کی بنیاد پر تمغوں سے نوازا، چکلالہ گیریژن میں منعقدہ تقریب کے دوران سائنسدانوں اور انجنئیرز کی شاندار خدمات کو سراہا گیا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
