نگران وزیر منصوبہ بندی سمیع سعید نے کہا ہے کہ بی آر آئی اقدام اکیسویں صدی کا اہم قدم ہے، اس کے تحت معاشی ترقی کو فروغ دیا جائے گا۔
نگران وفاقی وزیر سمیع سعید نے اسلام آباد میں سی پیک پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کو دس سال ہو گئے، وزیر اعظم پاکستان اور کئی وفاقی وزراء بیجنگ کی آئندہ ہفتے بی آر آئی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ قائد اعظم یونیورسٹی میں ارتھ سینٹر قائم کیا گیا ہے، یہ سینٹر چین کے تعاون کے ساتھ معدنیات کے شعبے میں بہتری کیلئے کام کرے گا۔
سمیع سعید نے کہا کہ ایک ماہ پہلے آئے ہوئے چینی سفیر کی سی پیک پر معلومات میرے سے زیادہ ہیں، دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات ہیں۔
انکا کہنا ہے کہ ہم نے سی پیک کے تحت 31 منصوبے مکمل کیے ہیں، ان منصوبوں پر 32 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، ملک میں 4 خصوصی صنعتی زونز بنائے گئے، چین کے ساتھ زراعت، سائنس اور ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
نگران وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ سی پیک کے ذریعے سماجی شعبوں کی بہتری کیلئے بھی کام کیا جائے گا، چین کے ساتھ زراعت اور ماحولیات کے منصوبوں کو فروغ دیا جائے گا۔
چینی سفیر کا خطاب
دوسری جانب چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی آر آئی فورم چین میں پانچ دن بعد شروع ہو گا، میں سمیع سعید کے میرے بارے میں ریمارکس پر بہت خوش ہوں، انہوں نے سی پیک کے بارے میں اتنا کچھ بتا دیا کہ میں مزید اضافہ نہیں کر سکتا۔
چینی سفیر کا کہنا تھا کہ چینی قیادت کا بی آر آئی کے ذریعے دنیا میں امن استحکام اور خوشحالی کا پروگرام ہے، ہم تمام لوگوں کو شریک کر کے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین نے بی آر آئی پر ایک وائٹ پیپر جاری کیا ہے، بی آر آئی منصوبہ مشاورت اور مشترکہ منصوبوں اور لوگوں کو شریک کرنے پر زور دیتا ہے، بی آر آئی کے ذریعے 132 ممالک کے ساتھ 200 معاہدے کیے گئے ہیں اور اس کے تحت 1 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، عالمی بینک کے مطابق بی آر آئی کی سرمایہ کاری سے 2030 تک ہر سال 76 لاکھ لوگوں انتہائی غربت سے باہر نکلیں گے۔
جیانگ زیڈونگ نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ زراعت آئی ٹی سائنس وٹیکنالوجی اور معدنیات میں تعاون کیا جائے گا، پاکستانی عوام کو معاشی مشکلات ہیں مگر یہ تھوڑی مدت کیلئے ہیں، پاکستان میں زراعت اور معدنیات میں ترقی کیلئے وسیع امکانات موجود ہیں، پاکستان کو ان شعبوں میں پیداوار بڑھانے میں معاونت دیں گے۔
سی پیک منصوبوں پر بڑی پیشرفت
یاد رہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان مختلف معاہدوں پر دستخط اور تیسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورمیں شرکت کیلئے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ اگلے ہفتے چین روانہ ہو نگے۔
اس حوالے سے ذرائع نے بتایا تھا کہ نگران وزیر اعظم 16 اکتوبر کو چین روانہ ہونگے، 17 اور 18 اکتوبر کو تیسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں شرکت کرینگے۔ تاہم دورہ چین کے دوران سی پیک کے تحت 15 معاہدوں اور ایم اویوز پر دستخط کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ 6.67 ارب ڈالر مالیت کے ایم ایل ون منصوبے کے معاہدہ پر دستخط کا امکان ہے۔ تاہم چین نے ایم ایل ون منصوبے کے ترمیمی معاہدے پر رضا مندی ظاہر کردی۔
سی پیک کے تحت گدھوں کی کھال ایکسپورٹ کرنے کیلئے پروٹوکول، ایڈوانس میٹرنگ انفرا اسٹرکچر اور پاکستان سپیس سنٹر منصوبے کیلئے بھی معاہدے پر دستخط کا امکان ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا تھا کہ ڈیری مصنوعات اور گوشت ایکسپورٹ کرنے کیلئے بھی پروٹوکول معاہدے پر دستخط ہونگے جبکہ سی پیک کے تحت گوادر کی اربن ڈویلپمنٹ کیلئے بھی معاہدے پر دستخط ہونگے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
