پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما فرخ حبیب نے پارٹی کو خیرباد کہہ دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریک انصاف کے اہم رہنما فرخ حبیب نے بھی پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا اور کہا کہ وہ آج سے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کررہے ہیں۔
فرخ حبیب نے کہا کہ9 مئی کو افسوسناک واقعہ پیش کیا ، ذہن میں تھا کہ جو سیاست ہم کررہے ہیں وہ ہمارے لئے درست نہیں، 9 مئی کے افسوسناک واقعات کے بعد پانچ ماہ سے ہم اپنے گھروں سے دور تھے۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو جو کچھ ہوا وہ غلط تھا، میں تحریک انصاف چھوڑ رہا ہوں، میری جہانگیر ترین سے ملاقات ہوئی ہے، آج کی اس پریس کانفرنس کے ذریعے میں استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان کررہا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو ساڑھے تین سال حکومت کام موقع ملا جس کے بعد آپ کو آئینی طریقے سے عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا، پارٹی چئیرمین نے جمہوری راہ کی بجائے یوتھ کو پیٹرول بم چلانے کی طرف لگا دیا گیا جبکہ آپ نے پرامن کے بجائے پرتشدد مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔
فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ 9 اپریل کو عدم اعتماد کا ووٹ آئینی انداز میں ہوا ، عدم اعتماد کے ووٹ کے بعد ہمیں پارٹی چئیرمین نے سکون سے نہیں بیٹھنے دیا ، ہم ملک کو تشدد کی راہ پر لے گئے تھے جبکہ ہم نے قائد اعظم کا پاکستان بنانے کی جدوجہد کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی کا کام تدبر دکھانا تھا، لوگ ان کیلئے لڑے لیکن خود انہوں نے گرفتاری نہیں دی، حالات کے تسلسل اور جذبات کی وجہ سے ہم بہت آگے نکل گئے تھے، نوجوانوں کے ذہنوں میں بٹھایا گیا کہ ادارے ہمارے خلاف ہیں جبکہ معصوم لوگوں کے جذبات کو بھڑکایا گیا۔
فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ لیڈرشپ کا کام جمہوری سوچ دینا ہوتا ہے نہ کہ تشدد کی سوچ، میں نے چیئرمین پی ٹی آئی کو ایسی تشدد کی سیاست کیلئے جوائن نہیں کیا جبکہ سائفر کے معاملے پر امریکہ کے سفارت کاروں کو ڈیمارش کرنا تھا، سائفر کو اپنے سیاسی بیانیہ لیے استعمال کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بد قسمتی سے چیئرمین پی ٹی آئی تشدد کی سوچ دیتے رہے، ملک کی معاشی صورتحال اور آئی ایم ایف کا بھی اندازہ تھا، کمزور ملک ہونے کے باوجود امریکہ اور آئی ایم ایف کے معاملے پر تدبر کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔
فرخ حبیب نے کہا کہ ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے بھی توشہ خانہ سے تحفے لیے ہوئے ہیں ، میں بھی توشہ خانے کے معاملے پر ٹویٹ کرتا تھا کیونکہ کابینہ اجلاس میں ہمیں کہا تھا کہ توشہ خانے معاملے کا دفاع کریں جو اخلاقی طور پر درست ہی نہیں تھا اور جب میں نے کابینہ سیکرٹری سے پوچھا تو اس نے بھی مجھے چپ رہنے کا کہا۔
فرخ حبیب نے کہا کہ القادر ٹرسٹ بنایا اس پر بھی شوکت خانم کی طرح انگلی نہیں اٹھنی چاہیے تھی اور بند لفافے میں القادر کے معاملے پر سمجھوتہ کیا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی کو ان تمام معاملات پر جواب دینا پڑے گا۔
سابق پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ایک وقت میں پی ٹی آئی بھی تانگہ پارٹی تھی، میں پی ٹی آئی کے لوگوں کو پیغام دیتا ہوں کے غلط چکر سے باہر نکل آئیں جبکہ ہم نے جہانگیر ترین کیساتھ کام کیا، جہانگیر ترین زبردست صلاحتیوں کے مالک ہیں، میں نے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے، استحکام پاکستان پارٹی بھی آگے بڑھے گی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
