جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی حملے کو بروقت بند نہ کیا گیا تو تیسری جنگ عظیم کا خطرہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق سراج الحق نے الخدمت کمیونٹی سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کا منشور صرف اور صرف انسانیت کی خدمت کرنا ہے، ہم ملک کو کرپشن سے پاک چاہتے ہیں، الخدمت فاؤنڈیشن پر نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا اعتماد کرتی ہے، غزہ میں امدادی سرگرمیوں کی وقتاً فوقتاً رپورٹ لیتا ہوں، ہم نسل ذات اور تعصبات سے بالاتر ہو کر خدمت کر رہے ہیں، عوام نے اگر ووٹ کا ٹھیک استعمال کیا تو پاکستان غریب ملک نہیں رہے گا، ملک میں اسلامی نظام ضروری ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ غزہ کے مسئلے پر کانفرنس کا انعقاد کیا ہے، لوکل سطح کی سیاست کے بجائے غزہ کے مسئلے پر سب ایک پیج پر آجائیں، غزہ کے لوگوں کے لیے مشترکہ فنڈز قائم کیے جائیں، اسرائیل ایک دہشتگرد ملک ہے، اسرائیلی دہشتگردی کو روکنے کے لیے فورس ہونی چاہیے، غزہ اس وقت جس مشکل سے دوچار ہے، انسانی تاریخ میں اتنا سخت دن نہیں دیکا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عالم اسلام کے مسلمانوں سے اپیل ہے کہ غزا میں لاشوں کے ڈھیر بن جائیں اس سے پہلے اقدامات کریں، عالم اسلام کو بیانات اور مذمتی قراردادوں سے کچھ نہیں ہوتا ہے، اس وقت مسجد القصی اور وہاں کے مسلمان ہمارے امداد کے لئے پکار رہے ہے، اگر اسرائیلی حملے کو بروقت بند نہ کیا گیا تو تیسرے جنگ عظیم کا خطرہ ہے، اس وقت دنیا ظالم اور مظلوم میں تقسیم ہے، علامیہ انسانی حقوق کے علمبردار فلسطین کے اس اہم مسئلہ پر خاموش ہے، اسرائیل کو اس ظلم سے منع کرنے کا یہی وقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کو تقسیم کرانا ہمارے ملک کے ایجنڈے کے خلاف ہے، او آئی سی کانفرنس بلا کر اس اہم مسئلہ پر بات چیت کی گئی ہے، پاکستان اور خیبرپختونخوا کے لوگوں نے افغان مہاجرین کو گھر دیے ہیں پناہ دی ہے، افغانستان کو پرامن ملک بنانے کے لئے ہم سب نے قربانی دی ہے، افغانستان حکومت پاکستان میں جاری بدامنی کو روکنے میں پاکستان کا ساتھ دے، افغانستان اب پرامن ہو گیا ہے اس لیے انہیں باعزت طریقے سے واپس کرنا چاہیے، تمام غیر رجسٹرڈ افغانیوں کے معاملے پر مشترکہ کمیشن بنایا جائے۔
سراج الحق نے مزید کہا کہ الیکشن بروقت ہونا چاہیے، کسی بحانے سے الیکشن کو تاخیر سے کرانا پاکستان کے حق میں نہیں۔
واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں جس میں فلسطینی شہدا کی تعداد دو ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق شہداء میں 583 بچے اور 267 خواتین بھی شامل ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 6 ہزار سے زائد ہے۔
غزہ سے نقل مکانی کرنے والے تین قافلوں پر اسرائیلی طیاروں کے حملوں میں مزید 70 فلسطینی شہید جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔
مغربی کنارے میں غزہ کے شہریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے کیے گئے مظاہرے پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 16 فلسطینی شہید ہو گئے جبکہ غزہ پر بھی ٹینکوں سے چڑھائی کردی گئی۔
لبنان پر اسرائیلی حملے کے جواب میں لبنان سے حزب اللہ نے بھی اسرائیلی فوج کے 4 ٹھکانوں پر فائرنگ کی ۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ غزہ میں 3 لاکھ 38 ہزار سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ ڈھائی ہزار سے زیادہ مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
غزہ میں 88 تعلیمی اداروں کو بھی نقصان پہنچا جن میں 18اقوام متحدہ کے زیر انتظام اسکول شامل ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
