نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں حج و عمرہ ریگولیشن بل 2023 منظور کر لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ کا اجلاس نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت ہوا جس میں حج پالیسی 2024 کی منظوری دی گئی۔
وزیر مذہبی امور انیق احمد اور حکام نے وفاقی کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب سے ملنے والا حج کوٹہ 1 لاکھ 79 ہزار 210 ہے، پرائیویٹ اور سرکاری حج کوٹہ 50، 50 فیصد رکھا جائے گا۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ حج درخواستوں کی وصولی کا عمل نومبر کے وسط سے شروع ہو جائے گا۔
اجلاس میں وزارت مذہبی امور کے حج و عمرہ ریگولیشن بل 2023 کی بھی منظوری دیدی گئی۔
وفاقی کابینہ نے پاکستان اسٹیل ملز کو نجکاری کی فہرست سے نکال دیا۔
حج آرگنائزر ایسوسی ایشن کا وزارت مذہبی امور کی حج پالیسی پر تحفظات کا اظہار
واضح رہے کہ حج آرگنائزرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ہوپ) نے وزارت مذہبی امور کی حج پالیسی 2024 پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔
وزارت مذہبی امور کی حج پالیسی سے متعلق پرائیویٹ حج آپریٹرز نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ حج پالیسی میں پرائیوٹ سیکٹر کی تجاویز نظر انداز کی جارہی ہیں، کابینہ میں بھیجی جانے والی حج پالیسی میں پرائیویٹ اسکیم کے لئے مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
حج آرگنائزرز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ وزارت مذہبی امور میں سیکریٹری نہ ہونے کہ وہ سے جامع حج پالیسی مرتب نہ ہو سکی، اس حج پالیسی سے آئندہ حکومت کے لئے مسئلہ کا سامنا ہوگا، عجلت میں پیش کی جانے والی حج پالیسی کے آئندہ حکومت کے مسائل میں اضافہ کرے گی۔
ہوپ نے کہا کہ کابینہ میں پیش کی جانے والی سرکاری اور پرائیویٹ اسکیم کے حجاج کیلئے الگ الگ معیار باعث تشویش ہے، گزشتہ سال کی اسپاسرشپ اسکیم کا مزید تجربہ کرنا باعث تشویش ہے۔
پرائیویٹ حج آپریٹرز کا کہنا تھا کہ حج آرگنائزرز 50 فیصد کوٹہ کے حامل سے بغیر مشاورت پالیسی مرتب کی گئی ہے، پرائیویٹ اسکیم کے 90 ہزار حجاج کرام کے حج آرگنائز کرنے والے حج آرگنائزرز کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔
ہوپ نے مزید کہا کہ پرائیویٹ اسکیم کے 904 حج آرگنائزرز کے روزگار کو ختم کرنے کی شازش کہ جا رہی ہے، وزیراعظم حج پالیسی میں پرائیویٹ اسکیم کے ساتھ زیادتی کا نوٹس لیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
