قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف نے کہا ہے کہ عدالتی کندھا استعمال کر کے مجھے زبردستی سیاست سے نکالا گیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے گذشتہ روز ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی اندرونی کہانی بول نیوز سامنے لے آیا۔
گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ مسلم لیگ (ن) اپنی ماضی کی کارکردگی کو انتخابی بیانیہ بنائے گی اور پارٹی نواز شریف کے سابقہ ادوار میں بنائے جانے والے منصوبوں کی بنیاد پر میدان میں اترے گی، رہنما انتخابی مہم کے دوران اپنی سابقہ کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگیں گے، سب سے پہلے مسلم لیگ ن کا انتخابی منشور تیار کروایا جائے گا اور اس کے بعد پارلیمانی بورڈ بنا کر ٹکٹوں کی تقسیم کی جائے گی۔
اجلاس میں پارٹی کی جنرل کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کا فیصلہ کیا گیا جس میں اہم فیصلوں کی توثیق کرائی جائے گی۔
فیصلے کے مطابق ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد نواز شریف انتخابی مہم کے دوران جلسوں سے خطاب کرینگے، لیگی قیادت نے 9 مئی کے واقعات میں ملوث کرداروں کو مکمل نظرانداز کرتے ہوئے ان سے کوئی بات چیت نہ کرنے کا متفقہ فیصلہ کر لیا۔
نواز شریف نے اجلاس میں شکوہ کیا کہ ملکی ترقی کے تمام تر اشاریوں کے باوجود ہمیں کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، پہلے غلام اسحاق پھر مشرف نے کام نہیں کرنے دیا، تیسری باری کے دوران دھرنے کروائے گئے، عدالتی کندھا استعمال کر کے مجھے زبردستی نکالا گیا۔
نواز شریف نے کہا کہ 1993 میں مجھے صدر، 1999 میں آرمی چیف اور 2017 میں چیف جسٹس نے نکالا، اگر ہمیں کام کرنے دیا جاتا تو آج پاکستان دنیا کی 20 بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا، اب بھی خلوص دل اور صاف نیت سے ملک کی خدمت کرنا چاہ رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کو موجودہ معاشی و سیاسی بحران سے نکالیں گے۔
دوسری جانب نواز شریف نے شریف میڈیکل سٹی میں اپنا معمول کا طبی معائنہ کروایا جہاں انہوں نے تقریبا 2 گھنٹے گزارے۔
شریف میڈیکل سٹی کے سی ای او ڈاکٹر عدنان کی سربراہی میں میڈیکل ٹیم نے نواز شریف کا طبی معائنہ کیا جس کے بعد وہ واپس جاتی امراء رائیونڈ پہنچ گئے۔
واضح رہے کہ ملک میں عام انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں، تاہم اس حوالے سے 21 ستمبر 2023 کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اہم اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں عام انتخابات جنوری 2024 کے آخری ہفتے میں کرادیے جائیں گے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق آج الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کے کام کا جائز ہ لیا اور فیصلہ کیا کہ حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست 27 ستمبر 2023 کو شائع کر دی جائے گی۔
اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ابتدائی حلقہ بندیوں پر اعتراضات وتجاویز کی سماعت کے بعد حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 30نومبر کو شائع کی جائے گی۔ حتمی فہرستوں کے بعد 54 دن کے الیکشن پروگرام کے انتخابات جنوری 2024 کے آخری ہفتے میں کروادیے جائیں گے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
