حکومت نے آئی ایم ایف کو گارنٹی محدود کرنے پر مطمئن کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزارت خزانہ نے حکومتی گارنٹیوں میں 232 ارب روپے کمی کی رپورٹ پر آئی ایم ایف کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ستمبر 2023 تک حکومتی گارنٹیوں کا بوجھ 4 ہزار ارب روپے تک محدود کرنا ہدف تھا، آئی ایم ایف شرائط کے مطابق ستمبر تک حکومت کیجانب سے نئی گارنٹی نہیں ایشو کی گئی، شرائط کے مطابق مرکزی بنک سے ادھار قرض نہیں لیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے مرکزی بنک سے ادھار قرض نہ لینے کی شرط عائد کی گئی تھی، بیرونی قرض کی ادائیگیاں بروقت کی جا رہی ہیں اور ادائیگیوں میں تاخیر نہیں کی گئی، اکتوبر کے اختتام تک سنگل ٹریژی اکاؤنٹ کی شرائط پر بھی عملدرآمد کیا جائے گا، سنگل ٹریژی اکاؤنٹ کی شرط پر عملدرآمد کا پراسس شروع ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد پاکستان پہنچا، جن میں 8 افراد شامل تھے جو اقتصادی جائزہ کیلئے پاکستان پہنچے تھے، مذاکرات میں وزارت خزانہ میں قائم آئی ایم ایف آفس کے 2 لوگ شریک ہوں گے، مجموعی طور پر 10 افراد 15 تاریخ تک پاکستانی معاشی ٹیم سے مذاکرات کریں گے۔
آئی ایم ایف وفد سے اقتصادی جائزے پر مذاکرات کیلئے وزارت خزانہ نے تمام وزارتوں کی کارکردگی رپورٹ مرتب کر لی، 11 وزارتوں اور اتھارٹیز کی طے شدہ اہداف پر مکمل عملدرآمد اور جزوی عملدرآمد رپورٹ بھی تیار کی گئی ہے۔
وزارت خزانہ، ایف بی آر، وزارت انرجی، وزارت پٹرولیم نے اہداف پر عملدرآمد کیا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، وزارت منصوبہ بندی، پیپرا نے بھی اہداف مکمل کیے، آئی ایم ایف کیساتھ کامیاب اقتصادی جائزہ مکمل ہونے پر 71 کروڑ ڈالر کی قسط ملے گی۔
دوسری جانب نگران وفاقی وزیر شمشاد اختر نے میڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام اداروں نے اہداف پر عملدرآمد کیا، کارکردگی اطمینان بخش ہے۔
انکا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات مثبت طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ معاشی ٹیم مذاکرات میں مصروف عمل ہے، ہ دعا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اچھے انداز سے کامیاب ہو جائیں۔
نگران وزیر خزانہ نے مزید کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ میری اور معاشی ٹیم کی میٹنگز بہتر ہوئی ہیں، پالیسی سطح کے مذاکرات میں خود شرکت کروں گی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
