Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

’امن ہمیشہ انصاف کیساتھ آتا ہے،نا انصافیاں ہوں تو امن نہیں ہوسکتا‘

 جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ امن ہمیشہ انصاف کے ساتھ آتا ہے،نا انصافیاں ہوں تو امن نہیں ہوسکتا۔

تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ افغانستان پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی ہوتو پھر یہ بین الاقوامی ایجنڈا ہے جس کی تکمیل ہوگی، فیصلہ سازوں کے سامنے تجویز رکھی ہے کہ کمیشن بنا کر دوطرفہ مسئلہ حل کیا جائے، یکطرفہ فیصلوں سے تعلقات خراب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان نے اپنے علماء سے فتوی لیا ہے کہ پاکستان میں مسلح کاروائی کو جہاد قرار نہیں دیا جا سکتا ہے، افغانوں کو غیر قانونی کہہ کر نکالا جا رہا ہے کیا وہ 42,43 سے غیر قانونی نہیں تھے؟ تکلیف کسی اور جگہ ہوتی ہے،شکایت کسی اور جگہ سے ہوتی ہے،سزا کسی اور کو دی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے فیصلے ہم کیا کرسکتے ہیں، مشرف نے بھی فیصلہ کیا تھا ہم نے مخالفت کی،پھر فیصلہ نافذ ہوا لیکن کیا فائدہ ہوا؟ امریکہ کو افغانستان پر حملے سے کیا فائدہ ہوا ؟ بالآخر رسوا ہوکر چلا گیا، عراق پر حملہ کیا پھر کہا کہ اطلاعات غلط تھیں اور پورے عراق کو تباہ وبرباد کردیا، کیا امریکہ کو حق ہے کہ وہ انسانی حقوق کے نام پر جہاں چاہے انسان کا خون بہائے، امن ہمیشہ انصاف کے ساتھ آتا ہے،نا انصافیاں ہو تو امن نہیں ہوسکتا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کا مسئلہ دو طرفہ ہے ۔اگر شکایتیں ہیں تو پوری کمیونیٹی کو اچھے الفاظ کے ساتھ اور اچھی یادوں کے ساتھ رخصت کیا جاسکتا تھا، اگر چالیس مہمان نوازی کے بعد لات مار کر رخصت کیا جائے تو مہمان نوازی تو ختم ہوگئی پھر، یہ معاملہ دوطرفہ مذاکرات کے ساتھ سنجیدہ انداز میں حل کرنا چاہیے تھا۔

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ افغانستان افغانوں کا ہے بالآخر انہوں نے جانا تھا،انہوں نے ایسی ہجرت نہیں کی کہ افغانستان میں اپنے حقوق سے دستبردار ہوگئے ہوں۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں

Exit mobile version