گیس پائپ لائن پر جرمانے کے خدشے کے پیش نظر پاکستانی وفد بات چیت کیلئے ایران پہنچ گیا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر توانائی محمد علی کی سربراہی میں پاکستانی وفد تہران پہنچ گیا، اس دورے کے دوران ایرانی حکومت سے ’ایران پاکستان گیسپائپ لائن منصوبے‘ پر بات چیت ہو گی۔
وزیر توانائی محمد علی ایرانی ہم منصب سے مزاکرات کرینگے جس میں انٹراسٹیٹ گیس سسٹمز کے حکام بھی شریک ہونگے۔
مذاکرات کے دوران پاکستان اپنے حصے کی پائپ لائن کی تعمیر کی ڈیڈلائن میں توسیع کی درخواست کرے گا۔
خیال رہے کہ پاکستان کو مارچ 2024 تک ایرانی سرحد تک اپنے حصے کی پائپ لائن تعمیر کرنی ہے، معاہدے کے تحت ڈیڈ لائن تک تعمیر نہ ہونے کی صورت میں ایران عالمی ثالثی عدالت میں جا سکتا ہے۔
ایران پاکستان سے 18 ارب ڈالر تک جرمانے کا مطالبہ کر سکتا ہے، پاکستانی وفد ایران پر عائد پابندیوں کے تناظر میں ڈیڈ لائن میں توسیع مانگے گا۔
معاہدے کے تحت پاکستان کو ایران سے یومیہ 75 کروڑ مکعب فٹ گیس درآمد کرنی ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں

















