اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین و سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کردی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔
جاری کردہ فیصلے کے مطابق سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کردی گئی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جیل سپرٹنڈنٹ یقینی بنائیں کہ ملزمان کی عزت اور وقار پر کوئی حرف نہ آئے، جیل ٹرائل کا مطلب ان کیمرہ سماعت نہیں بلکہ اوپن ٹرائل ہی ہے، جیل حکام اور حکومت سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ افراد کو عدالتی کارروائی دیکھنے کو یقینی بنائیں، سائفر کیس میں ہر حوالے سے اوپن اور شفاف ٹرائل کو یقینی بنایا جائے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ پراسیکیوشن کے مطابق بنی گالہ میں سائفر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی سازش تیار ہوئی، چیئرمین پی ٹی آئی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کی سیکورٹی کی وجہ سے جیل ٹرائل ہو رہا ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی فیملی اس سے قبل ان کے حوالے سے سیکورٹی خدشات کا اظہار کر چکی ہے، ہر سماعت پر جیل سے عدالت لانا چیئرمین پی ٹی آئی کے لیے سیکورٹی خدشات پیدا کر سکتا ہے، کوئی پروسیڈنگ صرف اس بنیاد پر کالعدم نہیں ہو سکتی کہ غلط جگہ پر وہ ہوئی، جب تک انصاف کی فراہمی میں ناکامی ظاہر نہ ہو وہ پروسیڈنگ کالعدم نہیں ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 8 نومبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
استغاثہ نے شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کرنے کی استدعا کی تھی۔
اس سے قبل آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابولحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی جس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت عالیہ سے رجوع کرتے ہوئے ضمانت پر رہا کرنے کی استدعا کی تھی، چیف جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت بھی مسترد کردی تھی۔
آج عدالت نے شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر مختصر فیصلہ سناتے ہوئے درخواست ضمانت مسترد کردی ہے۔
شاہ محمود قریشی جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالا جیل میں قید ہیں۔
علاوہ ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا ٹرائل چار ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
