پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کے درمیان اسٹاف کی سطح پر معاہدہ طے ہوگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں، اسٹاف لیول معاہدہ طے ہوگیا ہے۔
معاہدے کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹوبورڈ کی منظوری سے پاکستان کو 70 کروڑ ڈالر ملیں گے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پاکستان نے تمام معاشی اہداف حاصل کئے، آئندہ چند ماہ میں مہنگائی کم ہونے کا امکان ہے، پاکستان نے بجلی کی قیمتوں میں بروقت اضافہ کیا ہے، مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ پر عملدرآمد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو 70 کروڑ ڈالر ملنے کے بعد 1.9 ارب ڈالر قرض ہوجائے گا، قرض پروگرام کے ذریعے پاکستان اخراجات میں کمی کرے گا، پاکستان میں روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں گے، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت معاشی بحالی جاری ہے، دوست ممالک کے تعاون سے معاشی استحکام آ رہا ہے، وفاقی بجٹ پر عملدرآمد سے پالیسیوں میں تسلسل آیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بروقت ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے، ایکسچینج مارکیٹ پر دباؤ کم ہورہا ہے، آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس دسمبر میں ہونے کا امکان ہے، آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ پاکستان کو قرض فراہمی کی منظوری دے گا۔
نگراں وزیراعظم سے آئی ایم ایف مشن چیف نیتھن پورٹر کی ملاقات
نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے آئی ایم ایف مشن چیف نیتھن پورٹر کی ملاقات ہوئی ہے۔
ملاقات میں آئی ایم ایف حکام نے حکومت پاکستان سے تکنیکی سطح کے مذاکرات پر پیشرفت سے آگاہ کیا۔
آئی ایم ایف مشن چیف نیتھن پورٹر نے کہا کہ حکومتی کاوشوں کے نتیجے میں تکنیکی سطح کے مذاکرات کی مثبت تکمیل ہوئی، پاکستان اور آئی ایم ایف کی ٹیموں کے درمیان پروگرام کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بحث ہوئی۔
آئی ایم ایف کے مذاکرات میں وزیر خزانہ، گورنر سٹیٹ بینک اور ان کی ٹیم کے کردار کی تعریف کی گئی۔
نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے پاکستان کے ساتھ جاری کام پر آئی ایم ایف کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور وزیر اعظم کا آئی ایم ایف کے ساتھ متفقہ اصلاحاتی کوششوں کے مستقل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کا مقصد طویل مدت میں پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔
ملاقات میں پاکستان میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ایستھر پیریز بھی موجود تھیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
