لاہور میں جماعت اسلامی نے غزہ مارچ کا انعقاد کیا۔
تفصیلات کے مطابق غزہ مارچ کی قیادت امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کی۔
کیمپس پل تا برکت مارکیٹ غزہ مارچ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، مارچ کی سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھائیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو پورا لاہور جماعت اسلامی کی کال پر عظیم الشان غزہ مارچ میں آیا، آج کا غزہ مارچ دشمن کے لئے موت کا پیغام ہے جنہوں نے مسجد اقصی پر قبضہ کیا، 1969ء میں آگ لگائی وہ ہمارا تو دشمن ہے انسانیت کا بھی دشمن ہے، یاد دلانا چاہتا ہوں جس بیت المقدس کی آزادی کے لیے غزہ کے لوگ لڑ رہے ہیں وہ ہم سب کی وراثت ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ اسرائیل ابریلیسی ریاست کا نام ہے جو دنیا کے سامراجی قوتوں نے 1941ء میں ناجائز ملک بنایا، اسرائیل کو فلسطینیوں نے تسلیم نہیں کیا وہی فلسطینی ہیں ٹینکوں کے مقابلے میں بچوں نے گلیل اٹھائی اور ابابیل کے کنکروں کی طرح مقابلہ کیا، طوفان الاقصیٰ کے بعد دنیا تقسیم ہو گئی کون ظالم اور کون مظلوم کے ساتھ ہے، فرانس کی حکومت نے اسرائیل کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تو سوشل میڈیا کے ایکٹیوسٹ نے مہم چلائی تو فرانس نے اپنا بیانیہ تبدیل کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا نے بحری جہاز اسرائیل بھیجا تو عوام نے مزاحمت کی کشتیاں لے کر بحری جہاز کا راستہ روکا جو فلسطینیوں کے قتل عام کے لیے اسلحہ دینے جا رہے تھے، کینیڈا کی حکومت نے اسرائیل کا ساتھ دیا لیکن وزیراعظم ہوٹل میں کھانا کھانے گئے تو عورتوں نے مزاحمت کی اور انہیں بھوکے واپس جانا پڑا، واشنگٹن لندن کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مذہب رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر لاکھوں کے مظاہرے کر کے غزہ کا ساتھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے مظاہرہ کر کے بتا دیا فلسطینی یتیم نہیں انکے ساتھ ہیں، تین ہزار سے بچے شہید پینتیس ہزار سے زائد زخمی ہیں تین ہزار مائیں لاپتہ ہیں امکان ہے سب ملبے تلے دب گئے ہیں وہاں قیامت و کربلا برپا ہے، دنیا دیکھ رہی ہے الشفاء ہسپتال میں نوزائیدہ بچے جنہوں نے ماں کا دودھ نہیں پیا اسرائیلی دہشت گردی کا شکار ہو گئے، قیامت صغریٰ نے انسانیت کو بیدار کر دیا لیکن غزہ کے بچے پوچھ رہے امی پاکستان ایران ترکی انڈونیشیاء کی فوج کب آئے گی؟
سراج الحق نے کہا کہ او آئی سی کا اجلاس ہوا تو یقین تھا حماس کو بلا کر اسرائیل کو دھمکی دیں گے اگر بہتر گھنٹوں میں جنگ بند نہ کی تو تیل کا قطرہ نہیں دیں گے، یقین تھا کہ او آئی سی اجلاس میں فلسطین فنڈ کاا علان ہو گا اور مل کر غزہ سکیورٹی کے لیے عملی لائحہ ہو گا لیکن کچھ نہ کر سکے صرف مسلم عوام کو تسلی دینے کے لیے ایک مردہ قرار داد پاس کی جس کا اسرائیل پر کوئی اثر نہیں ہوا، مسلمان حکمرانوں کی مثال میر جعفر و میر صادق کی جو سامراج سے ڈرتے ہیں لیکن ملین مارچ نے دشمن پر کپکپی طاری ہو گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں مارچ کیا تو امریکہ نے فون کیا کہ سفارت خانے کو بچایا جائے، امریکی سفیر نواز شریف جہانگیر ترین سے ملے کیونکہ وہ ڈرتے ہیں تاکہ پاکستانی جدوجہد کو خاموش کر دیں، اگر تم فلسطین کے ساتھ نہیں تو قوم تمہارے ساتھ نہیں، بھارت پر بھی خوف طاری ہے اگر غزہ و مجاہدین کامیاب ہو گئے تو پھر کشمیر کی باری ہے اس لئے وہ اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں، غزہ پر جاپان پر ایٹم بم سے زیادہ بارودی بم گرائے گئے۔
واضح رہے کہ فلسطینی حکام کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اب تک 11,500 سے زائد فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں 7,800 سے زیادہ خواتین اور بچے شامل ہیں اور 29,200 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
دریں اثنا، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیلی ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 1,200 ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
