نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سید ارشد حسین شاہ نے کہا ہے کہ تعلیمی و تحقیقی پروگرامز کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔
تفٓصیلات کے مطابق نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت شعبہ اعلی تعلیم میں اصلاحات کے حوال سے اہم اجلاس ہوا جس میں نگران صوبائی وزیر اعلیٰ تعلیم اور صوبائی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے علاوہ، چیف سیکرٹری، سیکرٹری اعلی تعلیم اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران جامعات میں وائس چانسلرز کی تعیناتی کے لیے سرچ کمیٹی کو ہنگامی بنیادوں پر فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ یونیورسٹیوں کو مالی طور پر خود انحصار بنانے کے لئے فنانشل پلانز تیار کرنے کے اقدامات کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے متعلقہ حکام کو ایک ہفتے کے اندر کمیٹی کی رکنیت مکمل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ وائس چانسلرز کی تعیناتی کیلیےمیرٹ اور دیگر تقاضوں کے ساتھ امیدوار کی انتظامی صلاحیتوں پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔
سید ارشد حسین شاہ نے کہا کہ جامعات کو درپیش مسائل کو کل وقتی طور پر حل کرنے کے لیے ان کے انتظامی امور اور گورننس کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے جامعات میں بین الاقوامی معیار اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ تحقیق کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جدید مارکیٹ کی ڈیمانڈ کو مد نظر رکھ کر تحقیق کے لیے ترجیحات کا تعین کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جامعات میں تحقیق کیلئے سپلائی اینڈ ڈیمانڈ کے اصول کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے، ترجیحاتی شعبوں میں تحقیق کے عمل کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے جبکہ مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق تعلیمی و تحقیقی پروگرامز کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے
سید ارشد حسین شاہ نے متعلقہ حکام کو تمام جامعات کے مالی مسائل کا جائزہ لیکر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی جبکہ نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کو ایک ہفتے کے اندر حتمی شکل دینے کی بھی ہدایت کی۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سید ارشد حسین شاہ نے مزید کہا کہ تعلیمی نظام کا معیار بلند کرنے کیلیے بنیادی تعلیم سے ہی ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا جبکہ ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی نظام کو اعلی تعلیی اداروں کی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
