امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ہماری جدوجہد کا محور آزاد فلسطین کا قیام ہے۔
تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اسلام آباد میں بچوں کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پوری دنیا میں بچے اور بچیاں فلسطینی بچوں کے ساتھ ہے مگر مسلم حکمران غفلت کی چادر اوڑے بیٹھے ہیں، دنیا کو بغیر کفن کے دفن ہوتے بچے نظر کیوں نہیں آتے؟ ہمارا صدر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کرے اسے کس نے یہ حق دیا ہے، وزیر اعظم کو کس نے حق دیا ہے کہ وہ دو ریاستی حل کی بات کرے؟
ان کا کہنا تھا کہ صدر و وزیر اعظم قائد اعظم کی قومی فلسطین پالیسی سے انحراف کر رہے ہیں، کسی کو بھی قائد اعظم کی فلسطین پالیسی تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے، کیا زمین فلسطینوں کی ہو اور تقسیم کرنے کا حق کسی اور کو دیا جا سکتا ہے؟ اگر امریکہ و اسرائیل اس ظلم کے ذمہ دار ہیں تو او آئی سی بھی ذمہ دار ہے، اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کی امید تھی مگر او آئی سی خاموش رہی، آج غزہ ایک اور کربلا بن کر رہ گیا ہے، آج ساری دنیا تماشہ دیکھ رہی ہے اور غزہ میں فلسطینیوں کا پانی تک بند ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور بچوں کی انسانی حقوق کی تنظمیں کہاں ہیں؟ تم تو جانوروں کی باتیں کرتے ہو آج بچوں کے قتل عام پر کیوں خاموش ہو؟ پونے دو ارب مسلمان کیا کر رہے ہیں، سعودی عرب کی چالیس ممالک کی فوج کیا کر رہی ہے؟ کراچی لاہور اسلام آباد کے بچوں نے پاکستان کے حکمرانوں کو واضح پیغام دیا ہے، اگر حکمرانوں نے فلسطین کا ساتھ نہ دیا تو تاریخ معاف نہیں کرے گی، بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین کو آٹھ فروری کی فکر ہے فلسطین کی فکر کیوں نہیں؟ کوئی بلوچستان تو کوئی سندھ فتح کرنے میں لگا ہے تاکہ مزید کرپشن کر کے ملک لوٹ سکیں۔
سراج الحق نے کہا کہ ان بے حس سیاسی قائدین کو قوم پہچان لے، ان بے حس سیاسی لیڈروں کو اپنی انتخابی مہم کی پڑی ہے، حماس اور اسرائیل کے درمیان چار دن کی جنگ بندی حماس کی فتح ہے، حماس اور فلسطینیوں کو اسرائیل کو فریق تسلیم کرنا پڑا ہے، حماس کی جرات مندانہ قیادت اور عوام نے اسرائیل کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے، سب فیصلہ کریں اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں گے۔
یاد رہے کہ جماعت اسلامی پچھلے چند دنوں سے فلسطین کے حق میں ریلیاں اور مارچ کروا رہی ہے۔
خیال رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 13 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں 5 ہزار 500 سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔
علاوہ ازیں اسرائیلی افواج نے 3 ہزار 500 سے زائد خواتین کو بھی نشانہ بنایا اور جنگی قوانین کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے بلا تفریق سویلین رہائشی علاقوں، پناہ گزین کیمپوں، اسکولوں، اسپتالوں اور عبادت گاہوں کو بھی نہیں بخشا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
