Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایم کیو ایم نے آنے والی نسلوں کیلئے آب حیات پیش کر دیا ہے، مصطفیٰ کمال

 ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم نے آنے والی نسلوں کیلئے آب حیات پیش کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کراچی گلشن اقبال میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے تنظیمی ڈھانچے کے لحاظ سے 29 ٹاؤن ہیں، یہ صرف اور صرف ایک ٹاؤن کا جلسہ ہے، یہ جلسہ صرف اور صرف گلشن اقبال ٹاؤن کا ہے، اس شہر پر قبضہ کرنے کی کوشش اور خواب دیکھا جا رہا ہے، یہ شہر نہ پہلے کسی کے قبضے میں گیا ہے نہ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 10 سالوں تک ریاستی آپریشن رہا شہدا قبرستان آباد ہوئے کراچی والوں سے کراچی کوئی نہیں چھین سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے لگ رہے ہیں، ہم لوگوں کو گلیوں میں حق حکمرانی لانا چاہتے ہیں، وزیر اعلیٰ ہاؤس سے اختیارات نکال کر گلیوں میں لانا چاہتے ہیں، ایم کیو ایم نے تین آئینی ترمیم کی تجاویز پیش کر دی ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے مردم شماری میں 73 لاکھ لوگوں کو بازیاب کروایا، ایم کیو ایم نے آنے والی نسلوں کے لیے آب حیات پیش کر دیا ہے، آج کی ایم کیو ایم وزارت ،صدارت ،عہدے نہیں اختیارات مانگ رہی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اختیارات اور وسائل ملنے کے بعد کسی ایم این اے یا وزیر اعلیٰ کے پیچھے نہیں بھاگنا پڑے گا، سندھ کا وزیر اعلیٰ 22 ہزار ارب خرچ کر کے بیٹھا تھا، کراچی میرے زمانے میں دنیا کے 12 ترقی کرنے والے شہر میں شمار ہوتا تھا، دنیا چاند پر جا رہی ہے کراچی کے بچے گٹر میں گر کر مر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کنوینر خالد مقبول صدیقی آئینی ترامیم کا مسودہ تمام سیاسی جماعتوں کو پیش کریں گے، ہمیں آج جاگیردارانہ اور وڈیرانہ نظام سے اختیارات چھیننے کی ضرورت پیش آئی ہے، ہمیں اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لیے حکمرانوں کو بتانا ہوگا، ہم سڑکوں پر آنے سے بھی گریز نہیں کریں گے، 3 کروڑ آبادی کا یہ شہر ہے 2 کروڑ لوگ نکل گئے روڈ پر میں دیکھتا ہوں پاکستان کیسے چلتا ہے۔

 ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ہمیں مضبوط صوبے نہیں مضبوط ضلع چاہیے، جب تک پاکستانی خوشحال نہیں ہوگا تو صوبہ ٹھیک چلے گا نہ ملک، ایم کیو ایم بڑی تعداد میں اس شہر میں جیتے گی 2013 کا مینڈیٹ واپس لیں گے، آئینی ترمیم منظور نہیں کی گئی تو اس شہر کی سڑکیں ہوں گی اور ہم ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version