سائفر کیس کی گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں سماعت کا حکم نامہ جاری کردیا گیا ہے۔
بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے نقول فراہم کرنے کی سماعت کا جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے 4 صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کر دیا۔
حکم نامے کے مطابق دوران سماعت صحافی، پبلک کمرہ عدالت میں موجود تھی، عدالت نے سیکشن 352 سی آر پی سی کو مکمل نافذالعمل کروایا، وکلاء صفائی نے ملزموں کو نقول کی فراہمی سے قبل اعتراض اٹھایا۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وکلا صفائی کے مطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ سیکشن 13 (6) کے تحت ٹرائل کے لیے حکومتی نوٹیفکیشن موجود نہیں، وکلا صفائی نے کہا نوٹیفکیشن کی عدم موجودگی کے باعث خصوصی عدالت ٹرائل آگے نہیں چلاسکتی۔
حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا کہ پراسیکیوشن نے کہا ٹرائل کے حوالے سے سیکشن 13 (6) میں لفظ “ہوسکتا ہے” درج ہے، پراسیکیوشن نے اینیمی ایجنٹ آرڈیننس 1943، کریمینل لا 1958 کا ذکر کیا۔ پراسیکیوشن نے کہا دشمن ایجنٹ گرفتار ہو تو اینیمی ایجنٹ آرڈیننس 1943، کریمینل لا 1958 کے تحت ٹرائل ہوگا۔
حکم نامے کے مطابق اگر کوئی اور دشمن ایجنٹ گرفتار ہو تو کرمنل لا1958 کو مد نظر رکھتے ہوئے سیکشن6(3)نقول کی فراہمی کی بات کرتاہے، سوال ہے کہ کیا وکلا صفائی اینیمی ایجنٹ آرڈیننس 1943 کے تحت ٹرائل چاہتے ہیں؟
حکم نامے میں کہا گیا کہ اینیمی ایجنٹ آرڈیننس، کریمینل لا کے علاوہ کسی آرڈیننس کے تحت سیکرٹ ایکٹ کا ٹرائل نہیں ہوسکتا۔ وکلا صفائی کی استدعا مسترد کی جاتی ہے جو صرف ٹرائل کو تاخیر کا نشانہ بنانا چاہ رہے ہیں، پراسیکیوشن کو ٹرائل کے حوالے سے حکومتی نوٹیفکیشن آئندہ سماعت سے قبل جمع کروانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وکلا صفائی نے کہا انکوائری رپورٹ سے متعلق گزشتہ بیانات فراہم نہیں کیے گئے۔ وکلا صفائی کو انکوائری رپورٹ کے گزشتہ بیانات مہیا کیے جائیں۔ وکلا صفائی کیس کی نقول وصول کرنے کے لیے تیار ہیں۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کو کیس کے نقول فراہم کیے جاتے ہیں اور انہوں نے کیس کی نقول وصول کر کے دستخط بھی کیے،12 دسمبر کو بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔
