قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک کو یہاں تک پہنچانے والوں کا محاسبہ ہونا چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق نواز شریف نے (ن) لیگ کے پارلیمانی بورڈ کے چھٹے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپکی معیشت مس مینج ہوئی، ادراک کریں مس مینجمنٹ کب سے شروع ہوئی، سیاست میں آنے کا پہلا مقصد ملک سے غربت دور کرنا ہونا چاہیے، ہم اس لیے پارٹی ٹکٹ دے رہے ہیں کہ ملک کو ترقی دینی ہے، سوچنا چاہیے کہ ملک کا حال کیا ہو گیا ہے، جنہوں نے ملک کا جو حال کیا ہے انکا محاسبہ ہونا چاہیے۔
نواز شریف نے کہا کہ ملک کو اس حال میں پہنچانے والوں سے سوال کرنا چاہیے ایسا کیوں کیا، چینی صدر نے خود کہا تھا کہ سی پیک آپکے لیے تحفہ ہے، سمجھ نہیں آتا اناڑی کے ہاتھوں کیسے ملک کی باگ ڈور دے دی جاتی ہے، اچھے بھلے لوگوں کے ہاتھوں سے اختیار لیکر اناڑی کو دے دیے گئے، کچھ کردار ایسے بیچ میں آئے کہ ملکی معیشت کو ٹھپ کر کے رکھ دیا، قوم نے پچھلے 4 سالوں میں بہت مشکل دور دیکھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے معاملات کو ایران اور چین کے ساتھ مزید بہتر کرنا ہے، اسی وقت سے ہماری جی ڈی پی گروتھ رک گئی، میرے دور میں معاشی اقتصادی کسی قسم کا مسئلہ نہیں تھا، 2017 میں جب وزیراعظم تھا ملک میں ترقی عروج پر تھی، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے قوم کو ان مشکلات سے باہر نکالے، گزشتہ 4 سالوں میں عوام نے بڑا مشکل دور دیکھا، ہمارے دور میں معاشرہ پھل پھول رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے کہا کارگل میں لڑائی ہونی چاہیے، کیا ہمیں اس لیے نکالا؟ ملکی کرنسی اگر غیر مستحکم ہو تو ہر چیز غیر مستحکم ہو جاتی ہے، انہوں نے سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جبکہ ہم نے ملک کی ترقی کے لیے کام کیے اور ہر دور میں نکال دیا گیا، 1993 اور 1999 میں کیوں نکالا گیا مجھے پتا لگنا چاہیے۔
واضح رہے کہ پارلیمانی بورڈ 2 دسمبر سے اب تک سرگودھا ڈویژن، ڈسٹرکٹ راولپنڈی، ہزارہ، مالاکنڈ ڈویژن، صوبہ بلوچستان اور ڈیرہ غازی خان سے پارٹی امیدواروں کے ناموں پر غور کر چکا ہے۔
