Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائل؛ سابق چیف جسٹس کا جسٹس سردار طارق کی بنچ میں موجودگی پر اعتراض

سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف اپیلوں کے حوالے سے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے جسٹس سردار طارق مسعود کی بنچ میں موجودگی پر اعتراض اٹھا دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے جسٹس سردار طارق مسعود کی بنچ میں موجودگی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی ہے۔

سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے درخواست میں کہا کہ  جسٹس سردار طارق مسعود فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستوں پر نوٹ میں اپنی رائے دے چکے، جسٹس سردار طارق مسعود خود کو فوجی عدالتوں سے متعلق بنچ سے الگ کر لیں اور فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کالعدم قرار دینے سے متعلق اپیل پر نئے بنچ کی تشکیل کے لیے ججز کمیٹی کو معاملہ بھجوایا جائے۔

درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے متعلق 9 رکنی بنچ بنایا جس میں جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق نے سننے سے معذرت کی، جسٹس سردار طارق نے 26 جون کو دستخط شدہ نوٹ میں اپنی رائے دی اور وہ ملٹری کورٹس سے متعلق فیصلے میں نہیں بلکہ نوٹ میں اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔

سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے درخواست میں کہا کہ جسٹس سردار طارق مسعود نے سویلینز کے فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ قانون کو پہلے ہائیکورٹ میں چیلنج ہونا چاہیے۔

درخواست میں کہا گیا کہ جسٹس سردار طارق کا فوجی عدالتوں سے متعلق اپیلوں کو سننا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے، جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں قائم بنچ کو انٹراکورٹ اپیلوں پر فیصلہ کرنے سے روکا جائے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version