Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

امید ہے اب کسی وزیراعظم کیساتھ ذوالفقار بھٹو جیسا سلوک نہیں ہوگا، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ امید ہے اب کسی بھی وزیراعظم کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو جیسا سلوک نہیں کیا جائے گا۔

سابق وفاقی وزیر بلاول بھٹو نے لاہور ہائیکورٹ بار میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونسلوں سے یہاں انصاف مانگنے کے لئے آتے رہے، یہاں کرائم سین موجود ہے، قاتل ضیاء الحق اور لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز تھے، قاتل وہ بیوروکریٹ تھے جو سہولت کار بنے۔

انہوں نے کہا کہ آج چیف جسٹس کا شکر گزار ہوں کہ زرداری کے ریفرنس کی اتنے سالوں بعد سماعت ہوگی، اتنے سالوں بعد اب بھٹو شہید کو انصاف ملے گا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آج ہم لکیر کھینچیں گے کہ آج کے بعد کسی وزیراعظم کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہونے دیں گے، خواہ اس وزیراعظم کا تعلق پیپلز پارٹی، ن لیگ یا پی ٹی آئی سے ہو۔

انکا کہنا ہے کہ بھٹو شہید نے مسلم امہ کو اکٹھا کیا اور لاہور میں اہم فیصلے کیے، اس وقت کوئی بھٹو موجود نہیں ہے، امید ہے بھٹو کے دوبارہ ٹرائل سے غلط فیصلے اور تاریخ کو درست کیا جائے گا۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ ابھی میرے حق میں نعرے لگ رہے تھے تو پیچھے سے پی ٹی آئی کے نعرے لگ رہے تھے، میں تو اس بات سے خوش ہوں یہ جمہوریت ہے۔

انہوں نے کہا کہ خان صاحب تو کہہ رہے تھے کہ میں چور سے بات نہیں کروں گا، اب آپ کے ہی صدر کہہ رہے ہیں کہ بات چیت ہونی چاہیے، ایک دوسرے کی کردار کشی سے ملک آگے نہیں لے جایا جاسکتا۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ میں زبردستی کسی سے جیئے بھٹو کے نعرے نہیں لگواسکتا، مگر ہمیں سیاسی کارکنوں کی عزت اور احترام کرنی چاہیے، آپ کو یہ تسلیم کرنا ہونا گاکہ ہم بھی محب وطن ہیں، آپ کے بارے ہم تاثر رکھتے ہیں کہ آپ بھی محب وطن ہیں، سیاسی اختلافات میں ہمیں ایک دوسرے کے دشمن نہیں بننا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ خان صاحب خود پلٹ کر اسی راستے پر واپس آئیں گے، اگر ہمارے پرانے سیاست دان پرانے طریقے سے لڑتے رہیں گے تو ہماری سمت درست نہیں ہوسکتی۔

انکا کہنا ہے کہ ہمیں اصولوں اور روایات کی پاسداری کرتے ہوئے ملک میں صاف ستھری سیاست کو آگے بڑھانا ہے، اگر مل کر نہ بیٹھے تو ملکی معاملات اور ترقی کو آگے لے کر نہیں بڑھ سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں 70فیصد نوجوان ہیں، اگر روایتی سیاست جاری رکھی اور نوجوانوں کے جزبات نہ دیکھے گئے تو صورتحال بہتر نہیں رہے گی،  ہمیں دیکھنا ہوگا کہ اقتدار میں آکر ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں، ہمیں اب مل کر اپنا حق چھین کرلینا ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version