Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سائفر کیس کے ٹرائل روکنے کا حکم، تحریری حکم نامہ جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی جانب سے 9 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے آرڈر جاری کیا گیا ہے۔

تحریری حکم نامے کے مطابق درخواست گزار بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ٹرائل کورٹ کا 14 دسمبر کا آرڈر چیلنج کیا تھا جس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے استغاثہ کی درخواست پر ٹرائل کو ان کیمرہ قرار دیا گیا تھا، حکم نامے کے ذریعے ٹرائل کورٹ نے میڈیا کو کیس کی رپورٹنگ اور تشہیر سے بھی روک دیا تھا۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے اس مد میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور پیمرا کو بھی ہدایات جاری کیں تھی، ٹرائل کورٹ نے ملزمان کے اہل خانہ کو بھی کیس کی کارروائی کو میڈیا پر بیان کرنے سے روک دیا ، درخواست گزار کے وکیل کے مطابق ٹرائل کورٹ کا یہ اقدام ملزمان کے شفاف ٹرائل کے حق کے منافی ہے، درخواست گزار وکیل کے مطابق سائفر چالان کا حصہ ہی نہیں، اوپن ٹرائل سے ریاست کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ درخواست گزار وکیل کے مطابق سیکشن 14 کے تحت مکمل ٹرائل کو ان کیمرہ قرار نہیں دیا جاسکتا، درخواست گزار وکیل کا کہنا ہے کہ اگر کسی گواہ کا بیان خفیہ رکھنا مقصود ہو تو اس کی حد تک ان کیمرہ قرار دیا جاسکتا ہے، ٹرائل کورٹ کی جانب سے غیر ضروری جلد بازی کیساتھ ٹرائل کو آگے بڑھایا جا رہا ہے

تحریری حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل کے مطابق 14 دسمبر سے 21 دسمبر کے درمیان ٹرائل کی کارروائی کو ان کیمرہ رکھا گیا، 21 دسمبر کے بعد ٹرائل کی کارروائی کو  اوپن ٹرائل قرار دے دیا گیا، استغاثہ کے4 گواہان کے بیانات کو  پبلک کے سامنے ریکارڈ نہیں کیا جاسکتا تھا، استغاثہ کے یہ چار گواہ وزارت خارجہ کے ملازم تھے اور سائفر آپریشنز سے منسلک تھے، اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا کہ ان چار گواہان کے علاوہ دیگر 9 گواہان کے بیانات پر اوپن کورٹ میں جرح ہوسکتی تھی

تحریری حکم نامے کے مطابق اٹارنی جنرل کی گزارشات سے یہ بات صاف ہے کہ ٹرائل کورٹ نے غیر ضروری طور پر گواہان کے بیانات ان کیمرہ ریکارڈ کیے، اس بات کا فیصلہ بھی کرنا ہوگا کہ آیا ٹرائل کورٹ نے کارروائی دوبارہ اوپن قرار دینے کیلئے اپنے 14 دسمبر کے حکم نامے پر نظر ثانی کی؟اس سوال کے جواب میں پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے ٹرائل کورٹ کے 23 دسمبر کے حکم نامے پر توجہ مبذول کرائی، 23 دسمبر کے حکم نامے میں یہ تاثر دیا گیا کہ ٹرائل کورٹ استغاثہ کی درخواست پر کارروائی ان کیمرہ قرار دے سکتی ہے، صرف استغاثہ کی جانب سے درخواست ٹرائل کی کارروائی کو ان کیمرہ قرار دینے کے لیے کافی نہیں ہے۔

تحریری حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ کا 23 دسمبر کا حکم نامہ کسی طرح بھی 14 دسمبر کے حکم نامے پر نظر ثانی شمار نہیں کیا جاسکتا،درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ ان کیمرہ بیان ریکارڈ کرانے والے 4 گواہان کے بیانات کی تصدیق شدہ کاپی ان کے پاس موجود ہے، درخواست گزار کے وکیل کے اس دعوے نے عدالت اور اٹارنی جنرل کو بھی حیران کردیا، درخواست گزار وکیل نے ان کیمرہ بیان ریکارڈ کرانے والے چار گواہان کے بیانات کی کاپیاں عدالت میں پیش کردیں۔

تحریری حکم نامے کے مطابق عدالت میں پیش کی گئی 25 گواہان کے بیانات کی تصدیق شدہ کاپیوں میں ان کے استعمال پر قدغن کا کوئی ذکر نہیں، اب ان کیمرہ بیان ریکارڈ کرانے والے 4 گواہان کے بیانات کی کاپیاں بھی پبلک ہوچکی ہیں، عدالت ان کیمرہ بیان ریکارڈ کرانے والے 4 گواہان کے بیانات کو دیکھ کر فیصلہ کرے گی کہ کیا یہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں یا نہیں۔

تحریری حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے سائفر کیس کی کارروائی روزانہ کی بنیاد پر چلائی جارہی ہے، سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایک ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم اب نافذ العمل نہیں رہا جبکہ سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد بھی ٹرائل کورٹ روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل آگے بڑھا رہی ہے،ٹرائل کی کارروائی کو امر واقعہ بننے سے روکنے کے لیے آئندہ سماعت تک حکم امتناع جاری کیا جاتا ہے، کیس کی سماعت 11 جنوری 2024 تک ملتوی کی جاتی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفرکیس کا ٹرائل 11جنوری تک روک دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل اورنگزیب نے فیصلہ سناتے ہوئےسائفرکیس کا ٹرائل 11جنوری تک روک دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفرٹرائل میں فرد جرم کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر حکم امتناع کی استدعا مسترد کرتے ہوئے  12 دسمبرکی فردجرم کارروائی کیخلاف نوٹس جاری کردیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سائفرکیس کے ٹرائل کیخلاف مقدمات میں 12 دسمبر آرڈر کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ دورانِ سماعت جسٹس میاں گل حسن نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ابھی حکم امتناع نہیں دے سکتے مجھے اپنے انداز سے پروسیڈ کرنے دیں۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی عدالت میں وکیل محمد عثمان ریاض گل اوراٹارنی جنرل منصوراعوان پیش ہوئے۔ وکیل پی ٹی آئی نے دلائل دیے کہ پراسیکیوشن کی جانب سے روزانہ کئی گواہان کے بیانات قلم بند کروائے جارہے ہیں جس پرعدالت نے کہا کہ کتنے لوگوں کے بیانات ہوگئے ہیں؟

وکیل نے جواب دیا کہ اب تک 25 گواہان بیانات قلم بند ہوگئے ہیں، مجموعی طورپر28 ہیں۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ میں نوٹس جاری کروں گا۔ وکیل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں سائفر کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہو رہی ہے، عدالت سے استدعا ہے اگلی سماعت تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی روکی جائے۔

عدالت نے کہا کہ مجھے اپنی مرضی سے کیس کو دیکھنے دیں۔ اس کے بعد ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی بھی روسٹرم پر آگئے۔ عدالت نے رضوان عباسی سے استفارکیا کہ آپ اسٹیٹ کی بیہاف پر نوٹس وصول کریں گے؟

بعد ازاں عدالت کی جانب سے ریاست کو جاری کردہ نوٹس راجہ رضوان عباسی نےعدالت میں موصول کرلیا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں مجازافسربراہ راست عدالت میں کمپلینٹ دائرکرسکتا ہے؟

وکیل عثمان گل نے جواب دیا کہ قانونی طورپرحکومت کا مجاز افسر براہ راست عدالت میں کمپلینٹ دائر کرسکتا ہے۔ اس کیس میں کمپلینٹ کی بجائے ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر یہ کیس چل رہا ہے۔  25 گواہ کا بیان اور تین پر جرح ہوچکی ہے، مجموعی طورپر 28 گواہ ہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ ٹرائل کو پانچ چھ دن بعد کیس کی سماعت کرنے کی ہدایت کی جائے، ٹرائل کورٹ اس دوران ٹرائل مکمل کرسکتی ہے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم پہلے نوٹس جاری کررہے ہیں۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے نوٹس کمرہ عدالت میں وصول کیا۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود کے خلاف سائفر کیس کا ان کیمرا ٹرائل اڈیالہ جیل میں جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version