مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کا فیصلہ الیکشن کمیشن کے آئینی اختیار پہ حملہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینیئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز شریف نے پشاور ہائی کورٹ کے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کا فیصلہ الیکشن کمیشن کے آئینی اختیار پہ حملہ ہے، متنازعہ جج کا خلاف قانون فیصلہ لاڈلے پن کا تازہ شاہکار ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ گونج ہے کہ پی ٹی آئی کے لاڈلے نے پی ٹی آئی کو ریلیف دیا، جعلی اور فراڈ انٹرا پارٹی الیکشن کو حلال قرار دے دیا گیا، فیصلہ الیکشن نہیں سلیکشن کی جیت ہے، نہ ووٹرز، نہ ووٹرز لسٹیں، نہ الیکشن کمشنر، نہ الیکشن لڑنے کی اجازت لیکن سب حلال؟۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینیئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز شریف نے مزید کہا کہ لیول پلئینگ فیلڈ مانگنے والے اپنی جماعت میں کسی کو لیول پلئینگ فیلڈ دینے کو تیار نہیں، 2018 میں آر ٹی ایس بٹھانے کی تاریخ دہرائی گئی ہے، قوم کا مینڈیٹ چوری کرنے والے نے اپنی جماعت کا مینڈیٹ بھی چوری کر لیا ہے۔
الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل، تحریکِ انصاف کو بلے کا نشان واپس کرنے کا حکم
پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے تحریکِ انصاف کو بلے کا نشان واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔
پشاورہائی کورٹ میں جسٹس کامران حیات میاں خیل نے پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی جبکہ گوہرعلی خان، بیرسٹرعلی ظفر، بابراعوان اور دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا آرڈرمعطل کیا جاتا ہے۔ الیکشن 8 فروری کو اورنشانات13 جنوری کو ہونے جا رہے ہیں۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جماعت کو انتخابی نشان سے محروم کیا جارہا ہے۔
انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان واپسی کے خلاف کیس میں پی ٹی آئی درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایک سیاسی جماعت کو انتخابی نشان سے محروم کیا گیا ہے، ووٹ کے خواہشمند اپنی پسند کی پارٹی کو ووٹ دینے سے محروم کیا گیا، الیکشن کمیشن کے فیصلہ کو معطل کیا جاتا ہے اور الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو نوٹس بھی جاری کیا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کا سرٹیفیکیٹ ویب سائٹ پر پبلش کیا جائے،پی ٹی آئی کا بلے کا نشان بھی بحال کیا جائے۔
جاری کردہ فیصلے کے مطابق آئندہ سماعت 9 جنوری 2024 کو ہوگی، الیکشن کمیشن فیصلے معطلی کا حکم 9 جنوری 2024 تک نافذ العمل رہے گا۔8 فروری کو عام انتخابات ہونے جارہے ہیں، 13 جنوری 2024 کو انتخابی نشان الاٹ ہوں گے۔
