Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ڈینسو ہال میں بننے والا شہر کا پہلا میوزیم 23 مارچ کو عوام کیلئے کھول دیا جائے گا، مرتضیٰ وہاب

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب صدیقی نے کہا ہے کہ ڈینسو ہال میں بننے والا شہر کا پہلا میوزیم 23 مارچ کو عوام کیلئے کھول دیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق میئر کراچی مرتضیٰ وہاب صدیقی نے ڈینسو ہال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہم لوگ کے ایم سی کی بڑی تاریخی عمارت ڈینسو ہال میں موجود ہیں، 1886 میں اس عمارت کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، ہم میڈیا کے ذریعے کچھ فیصلوں سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کے ایم سی کے مالی حالات کو بہتر کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں گے، 2023 کے پہلے چھ ماہ میں 580 ملین کے ایم سی کی آمدنی ہوئی، ہمارے پانچ ماہ میں کے ایم سی کی آمدنی ایک ارب روپے ہوئی، اگلے چھ ماہ میں ٹیکس کے نظام کو مزید بہتر کریں گے، جو لوگ کہتے تھے اس شہر میں کام نہیں ہو سکتا انکے لیے جواب، پیپلز پارٹی کا میئر اور پیپلز پارٹی کی انتظامیہ کام کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فریئر ہال کو 1865 میں عوام کے لیے کھول دیا گیا، کراچی پورٹ ٹرسٹ کی 1886 کی تاریخی عمارت ہمارے پاس موجود ہے، ہمارے پاس تاریخی عمارتیں موجود ہیں، بلدیہ عظمیٰ کراچی شہریوں کے لیے تاریخی ورثے پر کام کرے گی، پاکستان میں عجائب گھر اور میوزیم ہیں، ہم 1886 کی ڈینسو ہال عمارت میں کراچی میٹروپولیٹن میوزیم بنائیں گے، میوزیم بنانے سے متعلق گزشتہ دنوں کے ایم سی میں قرارداد منظور ہوئی ہے، ہم نے اس بلڈنگ کا قبضہ حاصل کر لیا ہے، 23 مارچ سے قبل میوزیم کو عوام کے لیے کھول دینگے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں تاریخی عمارتیں ہیں، کراچی میں کسی بلدیاتی نظام کا میوزیم نہیں ہے، ہم نے ڈینسو ہال میں کراچی میٹرو پولیٹن میوزیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے، مارچ کو پہلا میٹرو پولیٹن میوزیم عوام کے لئے کھولنگے، اس شہر میں ہمارے پاس سب کچھ ہے، کراچی میں پہلی پیدائش کا سرٹیفیکیٹ پہلی ستمبر 1879 میں بنا جسکا نام لاڈو رمضان ہے، محترمہ فاطمہ جناح کو جو گھر دیا اسکی انٹری 18 فروری 1866 میں ہوئی، زمینوں کی رجسٹری کے حوالے سے کس زمانے میں نظام آیا تھا، اس شہر میں سب کچھ ہے منفی پروپیگنڈا لوگ کرتے ہیں۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی میں پہلا برتھ سرٹیفکیٹ کب بنا اس کی تفصیلات بھی موجود ہیں، ڈیتھ سرٹیفکیٹ کا رجسٹر بھی ہم نے نکلوایا ہے، فریئر گارڈن کے اندر لگی موتیاں بھی کسی کے گھر لگ گئی تھیں، محترمہ فاطمہ جناح کو 1966 میں زمین الاٹ کی گئی، ہم یہ تمام تفصیلات اپنے میوزیم میں آویزاں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 25 اگست 1947 کو بانی پاکستان نے خطبہ استقبالیہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی عمارت میں رہا، یہ وہ تاریخیں چیزیں ہیں جو چھپا دی گئی ہیں، انشاءاللہ کراچی میٹروپولیٹن میوزیم بنے گا، اپنے آنے والی نسلوں کو ورثوں سے متعلق آگاہی فراہم کریں گے، ہم اپنے بچوں کو تاریخی واقعات سے آگاہ کرینگے، اس شہر میں بہت کچھ ہے جو لوگوں سے چھپا ہوا ہے، پیپلز پارٹی کے تحت چلنے والی بلدیہ عظمیٰ کراچی اس شہر کی تاریخ اجاگر کرے گی، آنے والا وقت ہمارے حق میں بہتر ثابت ہو گا۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version