لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما خرم لطیف کھوسہ اور اور ساتھی کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایف آئی آر خارج کر دی۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس علی باقر نجفی نے خرم لطیف کھوسہ کی بازیابی کیلئے درخواست کی سماعت کی۔
عدالت نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ کیا اس طریقے سے انتخابات ہوتے ہیں؟ جواب غیر تسلی بخش ہونے پر آئی جی ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔
خرم کھوسہ کے وکیل زبیر خالد نے عدالت کو دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ خرم کھوسہ کو گرفتار انتخابات میں حصہ لینے کی بناء پر گرفتار کیا گیا، ابھی تک نہ تو کوئی مقدمہ درج کیا گیا ہے نہ ہی گرفتاری ڈالی گئی، عدالت خرم کھوسہ کو فوری طور پر بازیاب کرائے۔
خرم لطیف کھوسہ کو ہاٸیکورٹ پیش کیا گیا۔
عدالت نے سوال کیا کہ خرم کھوسہ کو کس کیس میں گرفتار کیا گیا؟
سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ پولیس پر حملہ اور واٸرلیس چھیننے کے مقدمہ میں ان کو گرفتار کیا گیا ہے، ایک واٸرلیس ان سے مل گیا ہے اور دوسرا حاصل کرنا ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ وہ ویڈیو کہاں ہے جس کا ایف آٸی آر کا ذکر ہوا۔
تفتیشی افسر نے کہا کہ واٸر لیس چھیننے کی ویڈیو نہیں ہے، وہ وقوعہ پہلے کا ہے ویڈیو بعد میں بنی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ کی باتوں سے شکوک تو پیدا ہوتے ہیں، آپ بتاٸیں کہ ٹرنر روڈ سے آج تک کتنے وکلا کو گرفتار کیا گیا؟
اعتزاز احسن نے کہا کہ خرم کھوسہ کو آج بھی ہتھکڑیاں لگا کر پیش کیا گیا۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ یہ غیر قانونی گرفتاری نہیں، قانون کے مطابق خرم کھوسہ کو گرفتار کیا گیا اب تفتیش ہونی ہے، عدالت میں غیر قانونی گرفتاری کا معاملہ زیر سماعت ہے ہی نہیں۔
عدالت نے کہا کہ دھمکیاں دینے پر دہشت گردی کی دفعات کیسے لاگو ہوتی ہیں۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ عدالت معاملے کی تفتیش کی اجازت دے، تفتیش میں سب کچھ سامنے آجاٸے گا، آج ہی دہشت گردی کی دفعات اور مقدمہ کی اخراج پر بحث ممکن نہیں۔
عدالت نے خرم کھوسہ کی بازیابی کی درخواست منظور کر کے ان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ آٸندہ کسی وکیل پر ایسی ایف آئی آر دی تو معطل کر دوں گا۔
