محسن نقوی نے کہا ہے کہ الیکشن کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے فیصلہ کرنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے ایس ایل تھری پراجیکٹ کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسم کی وجہ سے پراجیکٹ کی تکمیل میں مشکلات آرہی ہیں، نمی ختم ہونے میں کافی وقت لگ رہا ہے جس سے کام رکتا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ موسم کی وجہ سے آدھے دن کا کام ڈھائی سے تین دنوں میں مکمل ہوتا ہے، کوشش ہے مقررہ وقت پر تمام پراجیکٹ مکمل ہو جائیں،دن رات مانیٹرنگ جاری ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ صوبائی وزراء اور دیگر ٹیموں کو مختلف پراجیکٹس کی نگرانی کے فرائض تفویض کئے گئے ہیں جبکہ وزراء روزانہ کی بنیاد پر تمام اہم پراجیکٹس کی نگرانی کررہے ہیں۔
نگران وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ سی بی ڈی پراجیکٹس میں مشکلات درپیش ہیں،معاملات کو بہتر کرنے کیلئے آج ہی اجلاس طلب کیا ہے جبکہ الیکشن کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے فیصلہ کرنا ہے،ہم نے ان کے کہنے پر بس فیڈ بیک دینا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوالٹی کو برقرار رکھتے ہوئے پراجیکٹس کی قبل از وقت تکمیل ایک انتہائی مشکل کمبی نیشن ہے، تمام پراجیکٹس وقت سے پہلے مکمل کررہے ہیں،جہاں کوتاہی ہے اسے دور کریں گے۔
محسن نقوی نے کہا کہ یوریا کھادمہنگی فروخت ہو رہی ہے،ہمارے علم میں ہے اور ہم روزانہ ایکشن بھی لے رہے ہیں، لوگوں کو پتہ ہے کہ ایک دو دن کے بعد رہا ہوجانا ہے،اسی لئے وہ چند دن بعد پھر وہی کام شروع کر دیتے ہیں۔
نگران وزیراعلیٰ پنجاب نے یہ بھی کہا کہ تمام پراجیکٹس کے فنڈز مہیا کئے جارہے ہیں،تاخیر سمجھ سے باہر ہے، پراجیکٹس میں حائل رکاوٹوں اور تاخیر کو ختم کرنے کے لئے اجلاس آج ہی طلب کر لیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چلڈرن اسپتال ملتان مکمل ہو چکا ہے لیکن موسم کی خرابی کے باعث افتتاح کے لئے نہیں جا سکے جبکہ نشتر ون،نشتر ٹو،جنرل ہسپتال ،کارڈیالوجی،گنگارام اور دیگر تمام بیشترپراجیکٹس31جنوری تک مکمل ہو جائیں گے۔
محسن نقوی کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالت نے بھی قانون کے مطابق ہی فیصلے کرنے ہیں، اگلی حکومت سے امید ہے کہ سخت قانون بنائے گی اور سختی سے عملدرآمد کروائے گی، سخت قانون ہوگا تو ہی کام چلے گا جبکہ بڑی امید ہے اگلی حکومت ہم سے بھی اچھا کام کرے گی۔
نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کی سکیورٹی کے حوالے سے تمام فیصلے الیکشن کمیشن نے کرنے ہیں، تنقید کی کوئی فکر نہیں،معیار کو برقرار رکھنا ہے اور کام کرنا ہے کیونکہ اگر تنقید کے چکر میں پھنسے رہے تو کچھ بھی ٹھیک نہیں کر پائیں گے۔
