کراچی: نگران وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے کہا ہے کہ سندھ انٹرا ڈسٹرکٹ پیپلز بس سروس منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔
جسٹس (ر) مقبول باقر نے کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2015کے وسط تک کراچی میں 3.6 ملین رجسٹرڈ گاڑیاں تھیں، نجی گاڑیاں (موٹر سائیکلیں اور کاریں ) کل رجسٹرڈ گاڑیوں کا تقریباً 84 فیصد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روزانہ ایک ہزار سے زائد نئی گاڑیاں شہر کی سڑکوں پر آرہی ہیں، شہر کے 267 راستوں پر 12 ہزار سے زائد پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیاں چل رہی ہیں، نجی گاڑیوں کے اضافے کے باوجود بسوں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔
نگران وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 2017 میں 100 راستوں کیلئے مسافر بسوں کی تعداد 5000 سے بھی کم تھی، کراچی جیسے میگا سٹی کیلئے کم از کم 15 ہزار جدید بسیں ہونی چاہئیں۔
انکا کہنا تھا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث حکومت سندھ اور NRTC ایک معاہدہ کیا، یہ معاہدہ 2021کو سندھ انٹرا ڈسٹرکٹ پیپلز بس سروس پروجیکٹ کے تحت کیا گیا، سندھ پیپلز انٹرا ڈسٹرکٹ پروجیکٹ ایک G2G اقدام ہے جسکا آغاز 2022 میں کیا گیا۔
مقبول باقر نے کہا کہ سندھ کا پہلا انٹرا سٹی پبلک ٹرانسپورٹ پروجیکٹ ہے جو مخلوط ٹریفک میں کام کر رہا ہے، کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر شہروں یعنی لاڑکانہ، حیدرآباد اور سکھر میں بسیں چلائی جارہی ہیں، پروجیکٹ بنیادی طور پر عوام کی آمد و رفت کو آسان بنانے کیلئے ہے۔
انکا کہنا تھا کہ انٹراسٹی منصوبے کو جدید ترین بس آپریشن ماڈل کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، منصوبے کے تحت بہترین معیار کی ڈیزل ہائبرڈ بس سروس کو یقینی بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میٹرو سٹی کیلئے ٹرانسپورٹ کی بڑھتی طلب کیلئے پائیدار ٹرانسپورٹ سسٹم تشکیل دینا ضروری ہے، منصوبے کے تحت اس وقت کراچی میں 11 روٹس پر 204 بسیں چل رہی ہیں، لاڑکانہ میں 6 بسیں جبکہ حیدرآباد میں دو روٹس پر 12 بسیں اور سکھر میں 10 جدید ہائبرڈ بسیں چل رہی ہیں، خواتین کیلئے پنک بسیں چل رہی ہیں جسکو عوام کی بڑی پذیرائی مل رہی ہے۔
نگران وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ خوشی کا دن ہے کہ کراچی میں بسوں کا اضافہ ہو رہا ہے، بسوں اور موثر بائیک کی تعداد بڑھ رہی ہے جس سے عوام کو مشکل ہے، آج پچاس بسیں آئی ہیں کافی دنوں سے پورٹ پر رکی تھیں، گرین بس کے منصوبے پر وزیراعظم کو خط بھی لکھا ہے اور بات بھی کی ہے۔
مقبول باقر نے کہا کہ حکومت سندھ نے اس کامیابی کے بعد موجودہ تعداد میں مزید 20 بسوں کا اضافہ کیا ہے، سندھ حکومت نے 50 خصوصی الیکٹرک بسوں کی شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ٹیلیفون انڈسٹری نے سندھ میں ماحول دوست الیکٹرک وہیکل سسٹم تیار کرنے کیلئے ایک تجویز پیش کی ہے، آٹھ سال کیلئے آپریشنل اور کیپٹل اخراجات سمیت لیز کی معمولی ادائیگیاں کریں گے، لیز کی مدت مکمل ہونے کے بعد بسیں حکومت سندھ کے حوالے کر دی جائیں گی، نگراں کابینہ نے یہ رائے دی کہ کراچی میں تجارتی ٹرانسپورٹ کی شدید مشکلات ہیں۔
