لاہور: سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ریاست بچ گئی ہے تو سیاست بھی بچ جائے گی۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بیٹ رپورٹرز سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ فروری کو عوام فیصلہ کردیں گے کہ کس کو ووٹ دینا ہے، عوام کا فیصلہ ہم سب کو قابل قبول ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے، نوازشریف، شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز پورے ملک میں کمپین کریں گے، یہ الیکشن پاکستان کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف دو ہزار تیرہ میں وزیر اعظم بنے تو پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن تھا، دو ہزار سترہ اور اٹھارہ کے شروع میں لوڈشیڈنگ ختم ہوچکی تھی، ثاقب نثار ایک مہرہ تھا اس کے ذریعے نواز شریف حکومت کا تختہ نہ الٹا جاتا تو آج پاکستان کے یہ حالات نہ ہوتے، ایک سازش ہوئی اور ہر چیز تہہ بالا ہوگئی۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ شدید مہنگائی کا بحران آیا اور آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے توڑے گئے، یہ وہ صورتحال ہے جو ایک دو سال میں ٹھیک نہیں ہوسکتا، ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک سے نفرتوں کو ختم کریں، ہمارا دین بھی یہی سکھاتا ہے کہ دن رات محنت کرو، جس سفر کو دو ہزار سترہ میں ڈنڈے اور بلے سے ختم کردیا گیا اسی سفر کو دوبارہ شروع کرنا نواز شریف کی خواہش ہے۔
انکا کہنا تھا کہ پچھلے کچھ سالوں میں ہم معاشی تباہی کے دھانے پر پہنچ گئے، سولہ ماہ کی حکومت میں پاکستان کو معاشی بدحالی سے بچالیا، اگر نہ بچا پاتے تو لاکھوں بے روزگار لوگ سڑکوں پر ہوتے، اگر اللہ تعالی نے مجھ سے پوچھا تم نے پاکستان کیلئے کیا کیا تو کہوں گا پاکستان کو بچالیا۔
ن لیگ کے صدر نے کہا کہ سیاست کو نقصان ہوا کوئی دکھ نہیں، ریاست بچ گئی ہے تو سیاست بھی بچ جائے گی، قائد نواز شریف اگلے چند روز میں ن لیگ کے منشور کو عوام کے سامنے رکھیں گے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس نوجوان موجود ہے جو ہمارا سرمایہ ہے، پاکستان کے پاس تیل اور گیس کے بڑے ذخائر موجود نہیں ہیں، اربوں ڈالر تیل کی مد میں ہمیں ادا کرنے پڑتے ہیں، پاکستان کا اثاثہ ہمارے نوجوان ہیں، یہ نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں، نوجوانوں کو جدید تعلیم دلوائیں گے، درجنوں کالجز اور یونیورسٹیاں پاکستان کو بنانا ہوں گے۔
