Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آدھی آدھی مدت کیلئے وزارت عظمیٰ کا جائزہ؛ پی پی اور ن لیگ کی ملاقات کی اندرونی کہانی

پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ ملاقات میں مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کو حکومت میں شامل کرنے کی پیشکش کی اور لیگی قیادت نے ایم کیو ایم سے ہونے والی ملاقات اور آزاد ارکان سے رابطوں کے بارے میں بھی پیپلز پارٹی قیادت کو آگاہ کیا۔

لیگی وفد نے اپنے موقف میں کہا کہ وزیراعظم مسلم لیگ ن کا ہوگا، جس پر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کو پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی وزیراعظم کا امیدوار نامزد کر چکی ہے۔

ملاقات میں آدھی ٹرم کے لیے مسلم لیگ ن اور آدھی ٹرم کے لیے پیپلز پارٹی کے وزیراعظم کے حوالے سے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

دونوں جماعتوں کے درمیان وفاق، پنجاب اور بلوچستان میں اتحادی حکومتیں بنانے پر اتفاق ہوا اور میثاق جمہوریت کی روشنی میں پانچ سالہ روڈ میپ طے کرنے کی تجویز دی گئی۔

دوران ملاقات دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کی تجاویز پر پارٹی اداروں کو اعتماد میں لینے پر اتفاق کیا۔

بعدازاں پیپلز پارٹی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں کل مسلم لیگ ن کی طرف سے شراکت اقتدار کی تجاویز پیش کرے گی۔

ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ

گزشتہ روز پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہونے والی ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا تھا، جس کے مطابق مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں سیاسی تعاون پر اصولی اتفاق رائے ہوگیا۔

بلاول بھٹو سے شہباز شریف نے بلاول ہاؤس میں ملاقات کی، ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال اور مستقبل میں سیاسی تعاون پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

اعلامیے کے مطابق دونوں قائدین نے ملک کو سیاسی استحکام سے ہم کنار کرنے کیلئے سیاسی تعاون کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں جماعتوں کے قائدین نے صورتحال پر مشاورت کی اور تجاویز پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اصولی اتفاق کیا کہ سیاسی عدم استحکام سے ملک کو بچائیں گے۔

اس موقع پر پیپلزپارٹی کی قیادت کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی تجاویز کو پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں رکھیں گے۔

اعلامیے کے مطابق دونوں قائدین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کی اکثریت نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے، عوام کو مایوس نہیں کریں گے۔

ملاقات کے موقع پر مسلم لیگ ن کے وفد میں اعظم نذیر تارڑ، ایاز صادق، احسن اقبال، رانا تنویر، خواجہ سعد رفیق، ملک احمد خان، مریم اورنگزیب اور شزا فاطمہ شامل تھیں۔

واضح رہے کہ حکومت سازی کیلئے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی دوسری ملاقات ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version