امیر جمعیت علماء اسلام ف مولانا فضل الرحمان نے حیران کن فیصلہ سنادیا ہے۔
امیر جمعیت علماء اسلام ف مولانا فضل الرحمان نے مجلس عاملہ اجلاس کے بعد اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے شفاف انتخابات کے بیان کو مسترد کرتے ہیں، لگتا ہے فیصلے ایوان میں نہیں میدان میں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی پارلیمان میں کردار ادا کرے گی، اسمبلیوں میں شرکت تحفظات کیساتھ ہو گی، نواز شریف کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آئیں اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھیں۔ ہم پارلیمنٹ میں اپنی انفرادی حیثیت سے جائیں گے، کسی بھی پارٹی کے ساتھ ہمارا کوئی اتحاد نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمیعت علماء اسلام پارلیمانی کردار اد کرے گی تاہم اسمبلیوں میں شرکت تحفظات کے ساتھ ہو گی، مرکزی مجلس عاملہ نے جمیعت علماء اسلام کی مرکزی مجلس عمومی کو سفارش کی ہے کہ وہ جمیعت کی پارلیمانی سیاست کے بارے میں فیصلہ کرے کہ جمیعت مستقل طور پر پارلیمانی سیاست سے دستبردار ہو.
امیر جمعیت علماء اسلام ف نے کہا کہ اس سلسلے میں چاروں صوبائی مجلس عمومی کے اجلاس صوبوں کے مرکزی مقامات میں بلائے جائیں گے تاکہ مرکزی عاملہ کے فیصلوں پر صوبوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جمیعت علماء اسلام کو دھاندلی کے ذریعے شکست سے دوچار کرنے کی منصوبہ بندی اسلام دشمن عالمی قوتوں کے دباؤ سے ہوئی ہے، ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم نے افغانستان میں امارات اسلامیہ کے استحکام اور پاکستان افغانستان کے پر امن تعلقات کے حوالے سے کردار ادا کیا جو کہ امریکہ اور مغربی ممالک کیلئے قابل قبول نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم نے اسرائیل کی ریاستی دہشتگردی کے خلاف فلسطینیوں اور حماس کے موقف کی حمایت کی ہے ، لیکن جے یو آئی ایک نظریاتی قوت ہے ملک کے داخلی نظام اور بین الاقوامی مسائل پر کسی مصلحت یا سمجھوتے کا شکار نہیں ہو گی۔
امیر جمعیت علماء اسلام ف نے کہا کہ وسیع مشاورت کے بعد مقاصد کیلئے تحریک چلائیں گے، کارکن تحریک میں اترنے کیلئے تیار رہیں، میں نوازشریف کو دعوت دیتاہوں کہ وہ آئیں اور ہم مل کر اپوزیشن میں بیٹھیں۔
