بلاول بھٹو کا کہنا ہےکہ صدارتی انتخاب کو بلاوجہ متنازعہ بنایا جا رہاہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام ہم سب کی طرف دیکھ رہےہیں، جمہوری اداروں کی طاقت ہماری اور عوام کی طاقت ہے، بزرگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ایسے فیصلے کریں جس سے پارلیمان مضبوط ہو۔
انہوں نے صداررتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس معاملے کی وجہ سے صدارتی الیکشن کو بلاوجہ متنازع کیا جارہا ہے، انہوں نے محمود اچکزئی کے گھر پر مبینہ چھاپے کے خلاف کارروائی کرنے کی اپیل بھی کردی۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ میں اپنے خاندان کی تیسری نسل کا نمائندہ ہوں جو اس ایوان میں دوسری بار منتخب ہوا ہوں، اس عمارت کا جو بنیادی پتھر ہے وہ ذوالفقار علی بھٹو نے لگایا تھا، یہ قومی اسمبلی کسی ایک کی نہیں سب کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ بھی قوانین کے مطابق کھیلا جاتا ہے ، کرکٹ میں بھی جیت اور ہار کو قبول کیا جاتا ہے، بات چیت کے بغیر کوئی حکومت نہیں بن سکتی ، سب کو دعوت دیتے ہیں آئیں ملکر عوام کو مشکلات سے نکالیں ، تقسیم مینڈیٹ کی وجہ سے ایک جماعت فیصلہ نہیں کرسکتی ، عوام چاہتے تو کسی ایک جماعت کو اکثریت دے سکتےتھے، عوام نے ووٹ اس لیے نہیں دیا کہ یہاں شور شرابا یا گالم گلوچ کی جائے۔
سابق وزیر خارجہ نے کہاکہ عوام نے ووٹ اس لیے دیئے کہ ہم انہیں معاشی بحران سے بچائیں ، وزیراعظم نےجونکات اٹھائےان پرعمل ہوتوبحران ختم ہوجائےگا، ملک کی جمہوریت، معیشت کوبچانےکیلئےسب کوکرداراداکرناپڑےگا، بانی پی ٹی آئی نے جو روایت قائم کی ہمیں اسے ختم کرنا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ ہاؤس کے ممبران کی تقریر کو براہ راست چلنا چاہیے ، ہم یہاں کسی فارم 45 یا 47 کی وجہ سے نہیں پہنچے، ہم یہاں اپنے کارکنوں کی محنت اور قربانیوں کی وجہ سے پہنچے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہےکہ قومی اسمبلی کا ایوان ہم سب کا ہے، قومی اسمبلی کو مضبوط بنانا عوام کو مضبوط بنانا ہے، جب ہم قومی اسمبلی کو کمزور کرتےہیں تو وفاق، جمہوریت کو کمزور کرتے ہیں، ہمیں اس نظام کو کمزور نہیں مضبوط کرنے کی کوشش کرنی چاہے، تمام ارکان سے درخواست ہے کہ ایسےفیصلے کریں جس سےقومی اسمبلی مضبوط ہو۔
انہوں نے کہاکہ ہم اس جمہوری ادارے کو طاقتور بنائیں گے، ایسے فیصلے لیں گے جس سے نوجوانوں کا مستقبل بہتر ہو، آئندہ آنے والے ہمیں دعائیں دیں کہ انہوں نے قومی اسمبلی کے لیے اچھے فیصلے کیے، ایسا نہ ہو آئندہ آنے والے ہمیں گالیاں دیں کہ قومی اسمبلی کےساتھ کیا کیا۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ احتجاج کے نام پر ایک دوسرے کو گالیاں نہ دی جائیں، ملک میں مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کا سونامی ہے۔
