اسلام آباد: ملکی تاریخ میں پہلی بار سویلین حکومت میں سینیٹ غیر فعال ہوگیا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق 2018 میں منتخب ہونے والے 52 سینیٹر گزشتہ روز ریٹائر ہوگئے جس کے بعد 48 نشستوں پر انتخابات کرائے جائیں گے۔
ریٹائر ہونے والے 52 سینیٹرز میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، ڈپٹی چیئرمین مرزا آفریدی، قائد ایوان اسحاق ڈار، قائد حزب اختلاف ڈاکٹر شہزاد وسیم اور سینیٹر رضا ربانی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ریٹائر ہونے والے سینیٹرز میں مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے منتخب ہونے والے 13، پاکستان پیپلز پارٹی کے 12، پی ٹی آئی کے 8، جمعیت علمائے اسلام (ف)، پی کے میپ اور نیشنل پارٹی کے دو، دو ارکان، بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت سے منتخب 6، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ فنکشنل کے ایک، ایک سینیٹر شامل ہیں۔
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا آفریدی کے ریٹائر ہونے کے بعد سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ خالی ہوگیا۔
سینیٹ آف پاکستان جسے وفاق پاکستان کی علامت کہا جاتا ہے آج سے 2 اپریل تک غیر فعال ہوگیا ہے، آئین کے تحت سینیٹ کے ارکان 6 سال کے لئے اس لئے منتخب کیے جاتے ہیں تاکہ 5 سال بعد نئی حکومت آنے تک وفاق پاکستان کی علامت سینیٹ کام کرتی رہے، ہر 3 سال بعد آدھے سینیٹرز ریٹائر ہوجاتے ہیں اور اگلے چھ سال کے لئے نئے نصف سینیٹرز کا انتخابات کیا جاتا ہے۔
سینیٹ آف پاکستان ملکی پارلیمانی تاریخ میں اکثر اوقات فعال ہی رہتا ہے مگر تین مواقع جنرل ضیاالحق جنرل پرویزمشرف کے مارشلاوں اور موجودہ حکومت کے دور میں سینیٹ غیر فعال ہوگیا ہے، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بطور رکن بلوچستان اسمبلی حلف لے لیا تو چیئرمین سینیٹ کا عہدہ خالی ہوگیا ان کی جگہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے قائمقام چیئرمین سینیٹ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں مگر گزشتہ روز باقی 51 سینیٹرز کی طرح وہ بھی ریٹائر ہوگئے ہیں اس طرح سینیٹ آف پاکستان عملی طورپر غیر فعال ہوگیا ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینیٹ انتخابات 2024 کی پولنگ کے لئے ابتدائی شیڈول جاری کردیا ہے، سینیٹ کی 48 نشستوں کے لئے پولنگ 2 اپریل کو ہوگی، امیدوار ریٹرننگ افسران سے کاغذات آج سے نامزدگی حاصل کرسکتے ہیں اور جمع 15 اور 16 مارچ کو ہونگے۔
آئینی بحران سے بچنے کے لئے سیاسی جماعتوں کے درمیان چیئرمین سینیٹ کے عہدے کو 2 اپریل تک توسیع دینے پر مشاورت تو ضرور ہوئی مگر وہ سرے نہ چڑھ سکی جس کی وجہ سے آئینی بحران پیدا ہوگیا ہے۔
