Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سیاسی منظرنامہ تبدیل؛ شاہد خاقان عباسی کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا ہے۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مئی میں نئی سیاسی جماعت ہوگی، نئی جماعت مشاورت سے بن رہی ہے، راتوں رات نمودار نہیں ہو رہی، راتوں رات نمودار ہونے والی جماعتوں کا حشر سب دیکھ چکے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری نئی سیاسی جماعت الیکشن کیلئے نہیں آرہی، ہم خفیہ ہاتھ والے لوگ نہیں، اقتدار برائے اقتدارنہیں چاہیے، آج جو تینوں جماعتیں ہیں وہ سب اقتدار میں رہ چکی ہیں، موجود بڑی جماعتوں میں وہ سوچ نظر نہیں آتی جو چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ لوگ چاہتے ہیں نئی جماعت ہونی چاہیے، جو مسائل کا حل دے سکے، بوجھ ڈالیں گے تو کوئی کاروبار نہیں چل سکے گا، پالیسی وہ ہوتی ہے جو سب پر لاگوہو۔

 سابق وزیراعظم نے سوالات اٹھائے کہ کیا الیکشن چوری سنجیدہ مسئلہ ہے یا نہیں؟ کیا الیکشن ہوا یا نہیں؟ لوگوں میں الیکشن کے بارے میں مایوسی کا عنصر آگیا۔

 انہوں نے کہا کہ کیا ملک کی اپوزیشن ہے بھی یا نہیں، کیا ملک کی حکومت جو ہے وہ واقعی حکومت ہے؟ یہاں تو اکثریت بھی مشکوک ہے، جیتنے اور ہارنے والے دونوں اس وقت شرمندہ ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہائی کورٹ کے ججز کے خط پر دکھ اور تشویش ہوئی ہے، یہ وہ لوگ ہے جو دوسروں کو انصاف دیتے ہیں، بڑے بڑے فیصلے کرنے والے آج خود کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ججزکہہ رہے ہیں ہم دباؤ میں فیصلے کرنے کے قابل نہیں، ججز خط کا معاملہ اتنا سنجیدہ ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن کسی واقعے کی تحقیقات کرتا ہے، کمیشن ہمیشہ مجرموں کو چھپانے کیلئے اور جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے بنتے ہیں، بانی پی ٹی آئی نے بھی چینی کی چوری پر کمیشن بنائے تھے، بہت سے کمیشن بنے ہیں ان کی تاریخ اچھی نہیں۔

 سابق وزیراعظم نے کہا کہ ایک ملک کے جج کہہ رہے ہیں ہم پر دباؤ ہے دنیا اس کو دیکھ رہی ہے، آپ کے عدل کے نظام پر انگلی اٹھ رہی ہے، ججز کہہ رہےہیں ہمارے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے ہم کس کے پاس جائیں، کمیشن بننا اچھی بات ہے، میری نظر میں یہ معاملہ سنجیدہ ہے، چیف جسٹس صاحب اس معاملے کو سنجیدہ لیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version