سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے 2 ماہ میں سیاسی جماعت بنانے کا اشارہ دے دیا ہے۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملک کو ایک نئے پولیٹیکل initiativeکی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اسی سوچ کو لانے کی تیاری کر رہے ہیں، ہماری یہ سوچ ہے کہ ایک نئی سیاسی جماعت ہو جو بہتر سوچ رکھتی ہو۔ جب آپ آئیں تو آپ کو عوام کی جانب سے سپورٹ ضرور ملے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج بھی دنیا 10 سال 20 سال 30 آگے کا سوچ رہی ہے، پاکستان ہمیشہ پیچھے کی طرف دیکھتا رہتا ہے، میاں صاحب کہتے عمران خان یہ کر گیا، عمران خان کہتا ہے کہ میاں صاحب نے یہ کر دیا، سارے سیاستدان آگے کا سوچیں گے نہیں پیچھے کا دیکھتے رہتے ہیں۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جس ملک میں منصف انصاف مانگ رہے ہو یہ معمولی بات نہیں ہے، ہائیکوٹ کے جج آج کہہ رہے ہیں کہ ہمارا جو فرض منصبی ہے وہ ادا کرنے نہیں دیا جا رہا، سپریم جوڈیشل کونسل سے رہنمائی مانگتے ہیں کہ ہم کیا کریں، ہم نے انصاف دینے کا عہد لیا ہوا ہے لیکن ہمیں انصاف دینے سے روکا جارہا ہے، ہم اس پر کمیشن بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کرے یہ فل بینچ بن جائے، آج فل بینچ کی ضرورت ہے، اس سے بڑا ایشو میں نہیں سمجھتا عدلیہ کو اس سے پہلے سامنا کرنے کو ملا ہو، یہ جو گورننس ہوتی ہے وہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے مضبوط ہوتی ہے، آج ایکزیگٹیو اور عدلیہ کے درمیان تنازع ہے آپ نے اسے دیکھنا ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس ملک کو ایک نئی پارٹی کی ضرورت ہے جس لیے ہم چند دوست مل کر کوششیں کر رہے ہیں، انشاء اللہ مجھے امید ہے کہ ایک دو ماہ تک آپکو نئی سیاسی جماعت دیکھے گی جو ایک نئی سوچ، نئی فکر ملکی مسائل اور ان کے حل کے ساتھ ساتھ ملک اور عوام کی فلاح کے لیے کام کرے گی۔
