وزیر خزانہ کا کہنا ہےکہ مشکل وقت سے نکلنے کیلئے نجی شعبے کو آگے نکلنا ہوگا۔
وفاقی وزیر خزانہ و سینیٹر محمد اورنگزیب نےلاہور میں منعقدہ پری بجٹ کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہاکہ ہمیں ملک کے بارے میں بات کرنی چاہے کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں، پچھلے نو دس ماہ گزرنے کے بعد ہمارے پاس ایک فیز آ گیا ہے، آج جو تجاویز آئی ہیں میں اس بارے میں بہت کلئیر ہوں، اگر ملک میں معاشی استحکام چاہتے ہیں تو پرائیوٹائزیشن کی طرف جانا ہو گا۔
انہوں نے کہاکہ مشکلات سے نکلنا ہے تو پرائیویٹ سیکٹر کو لیڈ کرنا ہوگا، تنخواہ دار طبقہ بھی ٹیکس نیٹ میں شامل ہے،حکومت کا کام پالیسی بنانا ہے،کام پرائیویٹ سیکٹر نے کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں اسٹر کچرل ریفارمز کی ضرورت ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 9 بلین ڈالر سے زائد تجاوز کر گئے ہیں، روپے کی قدر مستحکم اور افراط زر میں کمی آرہی ہے، حکومتی پالیسیوں کے باعث بیرونی سرمایہ کاروں کااعتماد بحال ہورہاہے، آئی ایم ایف ٹیم پاکستان پہنچ چکی ہے ، کل مذاکرات شروع ہونے ہیں۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ کرنٹ اکاؤنٹ اور بجٹ خسارے کو ختم کرنا ہوگا، آئی ایم ایف وفد سے مختلف معاملات پر گفتگو ہوگی، ایف بی آر کا ٹریک اینڈ ٹریس بری طرح متاثر ہوا، آئی ایم ایف سے طویل پروگرام کے لئے مذاکرات ہوں گے، تاجر برادری کو بھی ٹیکس نیٹ میں لائیں گے۔
وزیر خزانہ اورنگزیب نے کہاکہ جو ہمارے تاجر بھائی ہی،جو ٹیکس نیٹ کے باہر ہیں وہ خود ٹیکس نیٹ پر آئیں، ہم ہرطرح کی سہولیات فراہم کریں گے لیکن ٹیکس نیٹ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، اگر ہم نے 24 پروگرام کے بعد بھی یہ تبدیل نہ کیں تو ہم کو سب بدلنا ہڑ جائے گا، ہر طرح کی سہولیات مہیا کریں گے ہر طرح کے مذاکرات کریں گے لیکن اس ٹریک سے پیچھے نہیں جائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ 24 ویں پروگرام کے دوران اگر یہ سٹرکچر چینج نہیں کیا گیا تو ہمیں 25ویں پروگرام کی طرف جانا پڑے گا۔
