کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں واقع سرکاری گوداموں سے چار ہزار ٹن گندم چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق سال 2022 سے 2024 کے دوران کروڑوں روپے مالیت کی گندم کی مبینہ چوری محکمہ خوراک سندھ کے عملے کی ملی بھگت سے انجام پائی۔
محکمہ خوراک کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2022 میں آئے تباہ کن سیلاب کے دوران گندم کی پیداوار میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی اور اس کمی کو پورا کرنے کے لیے کئی لاکھ ٹن گندم درآمد ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق سندھ سے چوری ہونے والی گندم کی بوریاں بلوچستان کے راستے افغانستان بھی اسمگل کی گئیں جن کی مالیت کروڑوں روپے ہے۔
مبینہ چوری محکمہ خوراک سندھ کے عملے کی ملی بھگت سے انجام پائی تھی۔
گندم کو سرکاری گوداموں سے نکالنے کے لیے ادارے کے افسران نے 2022 میں
سندھ میں آنے والے سیلاب کا بہانہ بنایا اور گندم کو محفوظ مقام پر پہنچانے کے جھوٹے دعوے کئے۔
صوبائی وزیر برائے خوراک جام خان شورو کا کہنا ہے کہ مذکورہ رپورٹ ملنے کےبعد انکوائری کر کے ذمہ داران کو سزائیں دلوائیں گے۔
