سیکرٹری کابینہ کی سربراہی میں قائم کمیٹی اب تک گندم درآمد اسکینڈل کی تحقیقات مکمل نہ کرسکی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے ایم ڈی اور جی ایم پاسکو کو ہٹانے کے بعد نیا ایم ڈی تعینات نہیں ہوسکا جبکہ چار لاکھ ٹن اضافی گندم خریدنے کا عمل بھی شروع نہ ہوسکا۔
پنجاب میں کسان اپنی گندم اونے پونے بیچنے پر مجبور ہوگئے، فی بوری قیمت 6 ہزار روپے کی کم ترین سطح پر آگئی۔
رواں سال نگراں حکومت اور موجودہ حکومت کے پہلے دوماہ میں بیرون ملک سے40لاکھ ٹن کے قریب گندم درآمد کی گئی جس کے بعد کسان کی پیدا کردہ گندم اضافی ہو کر فروخت سے محروم رہی۔
ذرائع نے بتایا کہ گندم درآمد اسکینڈل میں انکوائری رپورٹ پر کوئی پیشرفت نہ ہو سکی، پنجاب حکومت کی جانب سے گندم کی خریداری نہ شروع ہو سکی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاق کی درخواست کے باوجود پنجاب نے گندم کی خریداری نہیں کی، پاسکو کے زخائر میں 4 لاکھ ہدف بڑھانے کی منظوری بھی ہو چکی ہے۔
گندم اسکینڈل کے باعث جی ایم اور ایم ڈی پاسکو کو عہدے سے ہٹایا گیا، اسکینڈل کی انکوائری رپورٹ کے مینڈیٹ میں ایک ہفتے کا اضافہ کیا گیا تھا، اڑھائی ہفتے کے گزرنے کے باجود انکوائری رپورٹ پر تاحال کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔
ذرائع فوڈ سیکورٹی کے مطابق وفاق پاسکو کی جانب سے گندم کی خریداری کی مکمل مانیٹرنگ کر رہا ہے، پاسکو میں گندم کی خریداری میں مبینہ بد عنوانی کی تحقیات جاری ہیں۔
فوڈ سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پاسکو کی جانب سے کسانوں سے گندم کے خریداری یقینی بنائی جائے گی۔
دوسری جانب کسان اتحاد نے بتایا کہ پنجاب میں خریداری نہ ہونے سے گندم کی قیمت 24 سو روپے فی من پر ہے، پنجاب حکومت نے تاحال گندم کی خریداری شروع نہیں کی۔

















