آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ایل پی جی کی درآمدپر ٹیکس لگائے جانے کا خدشہ ہے جس کے بعد ایل پی مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔
ایل پی جی ایسوسی ایشن نے وزیراعظم شہبازشریف کوخط لکھا ہے جس میں ایل پی جی امپورٹ پر ٹیکسز سے متعلقہ فیصلہ پرنظرثانی کی درخواست کی گئی ہے۔
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ٹیکس لگنے سے فی سیلنڈر 164روپے مہنگا ہونے کا امکان ہےجبکہ 18فیصد تک ٹیکس بڑھانا امپورٹر اورخریدار دونوں کے لیے نقصان ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق300 ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیاں درآمدای ایل پی جی پرانحصار کرتی ہیں، جبکہ ملکی کھپت کو پورا کرنے کیلئے 60 سے 70 فیصد ایل پی جی درآمد کی جاتی ہے۔
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرایسوسی ایشن کا مزید یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ میں ایل پی جی امپورٹ ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ عوام کےساتھ ظلم ہوگا، کسی بھی مرحلہ میں اگر ایسا کوئی فیصلہ زیر غور ہے تو اس پر نظر ثانی کی جائے۔
