Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بڑی مچھلیوں کو پکڑنے میں ناکام رہے، عوام کو ریلیف نہیں پہنچایا جاسکا، بلاول بھٹو

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بڑی مچھلیوں کو پکڑنے میں ناکام رہے، عوام کو ریلیف نہیں پہنچایا جاسکا۔

چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو آج فکر نہیں کہ کون جیل میں تھا کون ہے کون جیل جائے گا، عوام کو فکر روٹی کپڑا اور مکان کی ہے، عوام ہم سے مشاورت سے اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت کے بغیر اور میثاق جمہوریت کے بغیر عوام کی امید پوری نہیں کی جاسکتی، حکومت اور اپوزیشن ملکر عوام کے مفاد کے نتیجے پر پہنچیں، جب ہم نے وزیر اعظم شہبازشریف کو ووٹ دینے کا طے کیا، ہمارا حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا تھا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمیں پی ایس ڈی پی اور بجٹ میں اعتماد میں نہیں لیا گیا، صرف ہم کو ہی نہیں دیگر اتحادیوں اور اپوزیشن کو بھی اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا، اگر وزیر اعظم سب کی رائے لیتے تو پاکستان کی سیاسی و معاشی کی جیت ہوتی۔

قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے پانچ سال قبل کی قیمتوں اور موجودہ قیمتوں کا تقابلی جائزہ پیش کردیا۔

انہوں نے کہا کہ آج 35 ہزار والا گھریلو خرچ 75ہزار تک جاچکا ہے، مہنگائی میں کچھ ہلکی سی کمی ہوئی ہے، عام آدمی مہنگائی ہونے کو دیکھ رہا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ میں 25فیصد اضافہ اچھی بات ہے، ہمارے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دیگر ممالک کاپی کررہے ہیں، باجوہ ڈاکٹرائن کے نام پر پتہ نہیں کیا کیا ہورہا تھا، ہم سیاسی جماعتوں نے الگ الگ نظریات کے باوجود ملکر چلنے کا فیصلہ کیا۔

چیئرمین پی پی پی نے کہاکہ بے نظیر انکم سپورٹ کو آئینی تحفظ ملنا چاہیے، اپوزیشن کو بھی ساتھ ملاکر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بہتر بنانا چاہیے۔

انکا کہنا تھا کہ بجٹ تقریر سے وزیر خزانہ کی تعریف کرنا تو بہت چاہتا تھا، افسوس ٹیکسوں کی وجہ سے وزیر خزانہ کی تعریف نہیں کرسکتا، ہر بجٹ کی طرح یہ بجٹ بھی بلواسطہ ٹیکس 75فیصد تک عام آدمی کو متاثر ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہم نیب ایف آئی اے وغیرہ کو ٹیکس لینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، ہمیں ملکر ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانا ہوگا، سیلز ٹیکس صوبوں کے پاس ہونا چاہیے، اگر ٹیکس کو صوبوں کو نہیں دینا اپنی جگہ ہے، مرکز جو سیلز ٹیکس جمع کرے وہ ہر صوبے کو بروقت دے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عارضی طوپر دوسال کے لیے صوبوں کو سیلز ٹیکس کا اختیار دے دیا جائے، سترہ اٹھارہ وزارتیں ابھی صوبوں کے پاس نہیں جاسکیں۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ کھاد کی سبسڈی فیکٹریوں کی بجائے کسانوں کو دی جانی چاہیے، سبسڈی لینے والی دیگر بڑی لابیوں کے خلاف ہم حکومت کا ساتھ دینے کو تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے کسانوں پر سرمایہ کاری کی، ایک سال میں کسانوں نے گندم اور چاول پیدا کرکے خوراک میں خود کفالت حاصل کرلی، ذہن میں رہنا چاہیے کہ کسان معیشت کی ریڑھ کی ہے

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ہم کسانوں کو براہ راست مدد کرکے خوراک میں خود کفیل ہوسکتے ہیں، نگران حکومت کے فیصلے سے کسانوں کو نقصان ہوا ہے اور ہوگا بھی۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version