وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تاجکستان دوستی کو مضبوط بنانے کے لیے تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کے ذاتی عزم اور قیادت کو سراہا۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق تاجک صدرنے وزیراعظم اور پاکستانی وفدکا قصر ملت میں استقبال کیا، اور پروزیراعظم شہبازشریف کوگارڈآف آرنرپیش کیاگیا۔
وزیراعظم شہبازشریف اور تاجک صدرامام علی رحمان کی درمیان ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی، مختلف شعبوں میں تعاون، علاقائی اور عالمی امور پرتبادلہ خیال کیا گیا۔
اعلامیہ میں بتایا گیا کہ ملاقات میں سماجی، علاقائی، تاریخی تعلقات کی بنیاد پر باہمی روابط کو مزید مضبوط کرنےکے عزم کا اعادہ کیا گیا، اور دونوں رہنماؤں میں تجارت، سرمایہ کاری، باہمی روابط، قافت، تعلیمی شعبوں میں اشتراک پر بھی گفتگو ہوئی۔
اعلامیے کے مطابق سائنس وٹیکنالوجی، دفاع، انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد اور دیگر شعبوں میں اشتراک پراتفاق کیا گیا، جبکہ دونوں رہنماؤں کا پاکستان اور تاجکستان دوستانہ تعلقات کے حوالے سے اطیمنان کاا ظہار کیا گیا۔
ملاقات میں پاکستان، تاجکستان کے درمیان خارجہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنےکے عزم کا اعادہ کیا گیا، اس دوران دونوں رہنماؤں نے اسٹریٹجک شراکت داری ہوابازی، سفارتکاری، تعلیم،کھیلوں، صنعتی تعاون سے متعلق معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔
اعلامیہ میں بتایا گیا کہ حالیہ خارجہ تعلقات کوطویل مدتی اسٹریٹجک اشتراک میں تبدیل کیاجائیگا، جبکہ اس معاہدے سے دونوں ممالک میں تعاون کے نئے مواقع پیداہوں گے۔
اعلامیے کے مطابق ملاقات میں سیاحت اور دیگر شعبوں میں مفاہمتی یاد داشتوں پر بھی دستخط کیے۔
وزیراعظم نے تاجک صدر کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال اور مقبوضہ کشمیر کی آبادیاتی ساخت کوتبدیل کرنےکی مکروہ بھارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں کا غزہ میں اسرائیلی جارحیت، بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تحفظات کا اظہارکیا گیا جبکہ رہنماؤں کا مزیدانسانی زندگیوں کاضیاع روکنے اور امن کے قیام کیلئےعالمی برادری کی کوششوں کوتیز کرنےکی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسماعیل سامانی کی یادگار اور قصر نوروز کا دورہ کیا اور کہا کہ تاجکستان کےساتھ برادرانہ تعلقات کومزید مستحکم بنائیں گے، جبکہ پاکستان اور تاجکستان دہشت گردی سے متاثر ہیں۔
شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے ناسور کا طویل عرصے سے سامنا ہے، جبکہ دہشت گردی کےخلاف پاکستان نےبڑی قربانیاں دی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ 18-2017میں ہم دہشتگردی کا ملک سے خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوئے، تاہم بدقسمتی سے اب یہ ناسور دوبارہ سراٹھا رہا ہے جبکہ مشترکہ کوششوں سے دہشتگردی کے ناسورکے خاتمےکیلئے پرعزم ہیں، اور امن کے بغیر خطے میں خوشحالی نہیں آسکتی۔
وزیراعظم شہبازشریف نے تاجکستان کے صدر کو پاکستان کے دورےکی دعوت بھی دی۔
