وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان ترقی نہیں کرے گا، جب تک بلوچستان ترقی نہیں کرے گا۔
وزیراعظم شہبازشریف نے بلوچستان کابینہ اجلاس میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم بننے کے بعد پہلی مرتبہ کوئٹہ آیا ہوں، جبکہ بلوچستان پاکستان کا اہم صوبہ ہے۔
شہبازشریف نے کہا کہ وفاق ٹیوب ویلزکے بجلی کے بلوں کی مد میں 500 ارب دے چکا ہے، جبکہ کئی وجوہات کے باعث بلوچستان ترقی کی دوڑمیں پیچھے ہے۔
وزیراعظم نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ 27 ہزارٹیوب ویلزکوبجلی نہیں ملتی، وجہ بل ادا نہ کرنا ہے، کاش 500 ارب روپے بلوچستان کی ترقی پرخرچ ہوتے۔
وزیراعظم نے کہا کہ یوسف رضاگیلانی کی سربراہی میں این ایف سی ایوارڈ ہوا، پنجاب نے اپنے حصے سے کئی ارب نکال کراین ایف سی میں ڈالے اوربلوچستان کی ڈیمانڈ کوپوراکیا۔
شہبازشریف نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے پنجاب نے کے پی کورقم دی، جبکہ عوام، افواج، پولیس نے بہت قربانیاں دی ہیں۔
وزیراعظم نے دوران اجلاس کہا کہ بلوچستان کے ٹیوب ویل پربجلی کوختم کرکےسولرپرچلائیں گے، جبکہ ٹیوب ویلز کی سولرپرمنتقلی وزیراعلیٰ بلوچستان کےلیے بڑاچیلنج ہے۔
شہبازشریف نے کہا کہ سولرپرجو بجلی چلتی ہے دنیا میں سستی ترین ہے، جبکہ سولرپرچلنے والی بجلی پن بجلی سے بھی سستی ہے، 3 ماہ میں 28 ہزارٹیوب ویلزکے کنکشن لگ جائیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے کمٹمنٹ کی ہے کہ 3 ماہ میں تمام ٹیوب ویل سولرپرمنتقل ہوجائیں گے، جبکہ سولرپینل کے لیے جوکمپنیاں ہائرکریں گے سب کی قیمتیں الگ ہوں گی۔
شہبازشریف نے یہ بھی کہا کہ منصوبے کے لیے 70 فیصد فنڈزوفاق، جبکہ 30 فیصد بلوچستان حکومت دے گی، اس کے علاوہ کاشتکاروں کو کوئی مسائل نہیں ہونے دیں گے، کاشتکاروں کے لیے ایک ماہ تک 4 ارب روپے وفاق ادا کرے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ کسانوں کے لیے ہم ماڈل بنائیں گے بینکوں سے میں خود بات کروں گا، ہم قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں، نسلوں کوتباہ کردیا، اس سے بڑاظلم وزیادتی 76سالوں میں کوئی ہونہیں سکتی۔
شہبازشریف نے یہ بھی کہا کہ ہم سب مل کرکام کریں گے توآنے والی نسلیں دعائیں دیں گی، آج اس موقع کوکھودیا توآنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ وفاق نے بلوچستان کے لیےدانش اسکولوں کے لیے بجٹ رکھا ہے،3 سال بعد دوبارہ آئی ایم ایف جانا پڑے توڈوب مرنے کا مقام ہوگا، جبکہ آئی ایم ایف کے پاس جانا مجبوری تھی۔
