امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کا دھرنا انقلابی بن جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نوجوانوں کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، پاکستان کے لئیے تباہ کن صورتحال اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ اسکا نوجوان ملک سے مایوس ہو۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہئیے نواجونوں سے مخاطب ہوں، انہیں تعلیم دیں اور روزگار ملے، سب کچھ اس ملک میں موجود ہو اور پھر لوگ اس سے مایوس ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے کارکنان کو گرفتار کیا گیا، پنجاب حکومت کے فاشسٹ رویے کی مزمت کرتا ہوں، پنجاب حکومت کارکنان کو رہا کرے، مقدمات ختم کرے، جماعت اسلامی کا دھرنا کسی بھی رخ جا سکتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہمیں تعلیم میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں، میرا یا میری پارٹی کا کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہم صرف اس ملک کو آگے لیکر جانا چاہتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ملک میں تمام وسائل ہونے کے باوجود مایوسی نظر آرہی ہے، ملک کے 99 فیصد شہریوں کو ان کے حق سے محروم کیا ہوا ہے، ملک کا مستقبل روشن کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کو لگام دینا چاہتے ہیں جو عوام کا خون نچوڑ رہی ہے، آئی پی پیز کا کردار ہر حکومت میں رہا ہے، پاکستان پر ظلم کیا ہے انکو اب نہیں چلنے دیں گے، حکومت سے کہتا ہوں کسی خان خیالی میں نہ رہیں یہاں آئیں ہم مطالبات کی منظوری سے پہلے نہیں جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ دھرنے انقلاب میں تبدیل ہو جائے گا، عوام کا حق لیے بغیر دھرنا ختم نہیں ہوگا، ایسا نہ سوچیں کہ چار دن کے لیے دھرنا دیں گے، روز کی بنیاد پر دھرنے میں بیٹھ کر حکمت عملی دی جائےگی، جماعت اسلامی کا دھرنا انقلابی بن جائے گا۔
