اسلام آباد: پاسکو میں مبینہ گندم اسکینڈل ہونے پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مجرمانہ کارروائی کا حکم دے دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف پاسکو میں کرپشن کے خلاف ڈٹ گئے، تاہم انہوں نے 2022 میں بھی 34 ہزار ٹن گندم غائب ہونے پر اسکا سراغ لگانے کا حکم دے دیا۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 2 سال سے وزیراعظم انسپکشن کمیشن کے ساتھ بیورو کریسی نے عدم تعاون کا اظہار کیا جبکہ وزیراعظم نے پاسکو میں کرپشن کی انکوائریز ایک ہفتے مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔
وزیر اعظم نے ہدایت دی کہ سابق ایم ڈی پاسکو کیپٹن ریٹائرڈ سعید کے خلاف انکوائری ایک ہفتے میں مکمل کی جائے اور پاسکو میں گندم اسکینڈل کی تحقیقات ڈی جی ایف آئی اے سے کرائیں۔
دستاویز کے مطابق وزیراعظم انسپکشن کمیشن کو ابتدائی انکوائری میں گمراہ کن معلومات فراہم کی گئیں، سابق ایم ڈی پاسکو کو ریٹائر افسر ظاہر کیا گیا، سابق ایم ڈی پاسکو کیپٹن ریٹائرڈ سعید مسابقی کمیشن کے ممبر ہیں، جسے چھپایا گیا۔
وزیراعظم نے اپنے موقف میں کہا کہ سال 2022 کے سیلاب میں گندم کے ذخائر کو نقصان پہنچانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، گندم کے ذخائر کو نقصان پہنچانے والے تمام افسران کے خلاف کارروائیاں کی جائیں اور گندم کی چوری کی انکوائری رپورٹ دو ہفتوں میں پیش کی جائے۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ وزارت غذائی تحفظ اور خزانہ پاسکو کے تمام امور آؤٹ سورس کرنے پر جامع رپورٹ پیش کرے، پاسکو میں سرکاری سبسڈی کے مکمل اثرات عوام تک کیوں نہیں پہنچے تحقیق کی جائے۔
دستاویز کے مطابق پاسکو کے انتظامی اخراجات پر مفصل رپورٹ تیار کی جائے گی اور پاسکو پر بینکوں کے واجبات اور ان پر سود کی رقم کی بھی تحقیقات کی جائیں گے، پاسکو میں کرپشن میں ملوث افسران کے خلاف ایف آئی اے اور نیب میں ریفرنس دائر کیے جائیں گے، سال 2022 کے سیلاب میں 34 ہزار ٹن گندم کا ذخیرہ کہاں گیا، مکمل انکوائری کی جائے گی۔
واضح رہے کہ پاسکو کے نئے اسکینڈل میں 3.4 ارب روپے کی گندم غائب ہوئی، تاہم وزیر اعظم شہباز شریف نے تحقیقات ڈی جی ایف آئی اے کے حوالے کردیں۔
