وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کا بڑا چیلنج معیشت کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ انجیئرنگ کونسل کا الیکشن پرامن طریقے سے ہورہا ہے، پاکستان انجیئرنگ کونسل میں پونے تین لاکھ انجینیئرز رجسٹرڈ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کا بڑا چیلنج معیشت کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے، امید کرتے ہیں پاور سیکٹر کو مضبوط کرنے آگے بڑھنے میں کامیابی ملے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے عوام کو سستی بجلی دینے کے لئے ریلیف کا اعلان کیا ہے ان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، آج جو معاشی مسائل کا چیلنج ہے اس کی بڑی وجہ دو ہزار اٹھارہ میں ملک چھین کر ایک اناڑی کو دے دیا گیا تھا۔
احسن اقبال نے کہا کہ وہ ساری ترقی جو ہم نے خون پیسہ لگاکر کی تھی اس کو ختم کردیا گیا، انشاء اللہ ایک مرتبہ پھر دو سے تین سال میں ملک دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا، جس تیزی سے لوگ باہر جارہے ہیں اسی تیزی سے واپس آئے گے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی کا کہنا تھا کہ یہ ملک پاکستانیوں کا پاکستان ہے، اگر اس ملک کی آزادی کی قیمت کسی سے پوچھنی ہے تو غزہ اور کشمیر کے لوگوں سے جاکر پوچھو، ایک شخص ملک سے بڑا نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ وہ شخص کہتا ہے کہ مجھے پنجرے میں بند کررکھا ہے، مجھے بھی اسی پنجرے میں بند کر رکھا تھا، انہوں نے 190 ملین پونڈ کی کرپشن کی ہے اس کی رسیدیں دیں، 9 مئی کا واقعہ ایک افسوسناک اور گھنونا واقعہ تھا جس میں ہماری فوج کے خلاف سازش تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عدلیہ کو بھی ویسے ہی فیصلے دینے چاہیے جیسے برطانیہ میں فیصلے کیئے گئے، دنیا میں جمہوریت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اپنی ریاست کے خلاف انتشار پیدا کرے، جو بھی اس گھناؤنی سازش میں ملوث ہے اس کو قانون ضرور گرفت میں لے گا، جو بھی انتشار پھیلانے کی سازش کا حصہ ہے اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
