وفاقی وزیر تجارت جام کمال کا کہنا ہے کہ کراچی کیلئے بجلی کے نرخوں پر کام کررہے ہیں۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجکاری کے عمل کو حکومت فوکس کر رہی ہے، 80 سے زائد ادارے ایسے تھے جنہیں پرائیوٹائز کرنا تھا تاہم کچھ اسٹریجیٹک ادارے بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے وزیراعظم اور اسحاق ڈار کام کررہے ہیں، کسی بھی ادارے کی نجکاری میں سُستی نہیں ہے، کچھ چیزیں ہیں جنہیں دیکھا جاتا ہے، کچھ لینڈ اور لائبلیٹیز کے ایشوز ہوتے ہیں۔
جام کمال کا کہنا ہے کہ ہم ایسے اداروں کی بات کررہے ہیں جو سالانہ اربوں روپے کے نقصان کررہے ہیں، ملکی برآمدات فوری طور پر نہیں بڑھائی جاسکتیں، اس میں ماضی میں کچھ کام نہیں ہوئے۔
وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے ساتھ بجٹ کے بعد میری روزانہ تاجروں سے بات ہوتی ہے، تاجروں کے ساتھ پیدواری لاگت ٹیکس کے ایشوز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ آئی پی پیز میں بین الاقوامی سرمایہ کاری بھی ہے، پاور جنریشن میں نجی کمپنیاں کام کررہی ہیں، نجی کمپنیوں کے کچھ قوانیں ہیں، کےالیکٹرک اس وقت مہنگی بجلی کا سارا بوجھ صارفین پر ڈال رہی ہے، اس حوالے سے وفاقی کابینہ میں بات چل رہی ہے۔
جام کمال کا کہنا ہے کہ کراچی کے لئے بجلی کے نرخوں پر کام کررہے ہیں، تاجر برادری کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، چیزوں میں وقت لگ سکتا ہے جس پر تاجروں کو آن بورڈ لے رہے ہیں۔
وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ آئی پی پیز میں غیرملکی اور مقامی سرمایہ کاری موجود ہے، آئی پی پیز کے حوالے حکومت اور منسٹری متحرک ہیں۔
