قومی اسمبلی اجلاس میں کارپوریٹ فارمنگ کے لیے دی جانے والی 48 لاکھ ایکڑ اراضی کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کردیاگیا۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس میں توجہ دلاؤ نوٹس پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے پیش کیا جس میں انہوں نے اعتراض اٹھایا کہ ایسے منصوبے ان ممالک میں شروع کیے جاتے ہیں جہاں پانی وافر مقدار میں ہو۔
نوید قمر نے کہا کہ کالا باغ ڈیم سے جان چھڑائی ہے تو کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر ہمارے لیے ایک اور مصیبت لائی جا رہی ہے۔ پاکستان جیسا ملک ایسے منصوبوں کو برداشت نہیں کر سکتا۔
وفاقی وزیر مصدق ملک نے اس کے جواب میں کہا کہ بنجر علاقے کو آباد کرنے کے لیے پنجاب حکومت نے یہ منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس منصوبے کے لیے چولستان کینال بھی بنائی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کے لیے پانی پنجاب اپنے حصے سے دے گا،کسی اور صوبے کا پانی استعمال نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے سندھ سمیت دو صوبوں نے رضامندی ظاہر کی ہے۔ گرین انیشیٹو کے تحت سندھ زمین بھی دے چکا ہے۔ سندھ میں جو اراضی کا حصہ آئے گا اس کے لیے پانی سندھ اپنے حصے سے دے گا۔
مصدق ملک نے کہا کہ منصوبے سے حاصل ہونے والی 40 فیصد آمدن صوبوں کو اور 40 فیصد سرمایہ کاروں کو دی جائے گی جبکہ 20 فیصد تحقیق کے لیے رکھی جائے گی۔ اس منصوبے کے تحت ہماری پوری توجہ پیداوار پر ہوگی۔
سید حسین طارق نے سوال کیا کہ کیا اس منصوبے کے لیے اراضی منتخب حکومت نے دی یا نگراں حکومت نے؟ جس پر مصدق ملک نے کہا کہ میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ اس منصوبے کے لیے اراضی نگراں حکومت نے دی تھی۔ اگر سندھ کی منتخب حکومت کو کوئی مسئلہ ہے تو بے شک اراضی واپس لے لیں۔
پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے کہا کہ وفاقی وزیر کے جواب سے مایوس ہوا ہوں، یہ بہت حساس معاملہ ہے۔ 1991 کے واٹر ایکارڈ کا ہم آج بھی احترام کرتے ہیں۔ ایوان ایک کمیٹی تشکیل دے اور دیکھ لیں کہ کوٹری سے نیچے پانی کتنا جا رہا ہے، تاحال ٹیلی میٹری سسٹم نصب نہیں کیا جا سکا۔
خورشید شاہ نے مزید کہا کہ کیا کسی نے حساب لگایا کہ 48 لاکھ ایکڑ اراضی کے لیے پانی کتنا درکار ہوگا۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں 48 لاکھ ایکڑ زمین چاہئے یا پاکستان چاہئے۔
مصدق ملک نے جواب میں کہا کہ جس پارٹی نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا وہ سندھو دیش کا نعرہ کیوں لگائے گی۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں بے شک اس معاملے پر خصوصی کمیٹی بنا دیں۔
