ایوان صدر میں مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے۔
صدرمملکت آصف علی زرداری نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں موجود تمام افراد کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، اسرائیل لبنان اور یمن میں بھی معصوموں کا خون بہا رہا ہے، اسرائیلی جارحیت کے باعث اب تک 41 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ فلسطین اور غزہ میں صحت اور تعلیم کا ڈھانچہ بری طرح تباہ ہو چکا ہے، اسرائیلی جارحیت سے خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرہ ہے۔
صدرمملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا شرکاء سے خطاب
وزیراعظم شہباز شریف نے آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے پی سی میں شرکت پر تمام رہنماؤں کا شکر گزار ہوں، پاکستان کو درپیش چیلنجز پر پوری قیادت متحد ہے۔
انہوں نے کہا کہ شرکاء کی تقاریر اور تجاویز کو غور سے سنا، اجتماعی سوچ اور فکر ہمارے لیے حوصلہ افزا ہے، جب بھی ملک کو کسی چیلنج کا سامنا ہوا پوری سیاسی قیادت متحد ہو گئی۔
شہباز شریف نے کہا کہ عالم اسلام کو آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے، فلسطین کی آزاد ریاست کا قیام اور القدس شریف دارالخلافہ ہونا چاہیے، مقبوضہ کشمیر میں بھی مظالم اور بربریت کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینی عوام کو بدترین اسرائیلی جارحیت کا سامنا ہے، ہم سب فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں، وقت آگیا ہے کہ خون ریزی کو بند کرانے کے لیے کاوشیں کی جائیں، خون ریزی کو بند کرانا ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کو آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے چاہئیں، کیا مسلمانوں کا خون کسی سے سستا ہے؟ 42 ہزار شہادتوں پر اب عالمی ضمیر کو جاگ جانا چاہیے، جنگ بندی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ اے پی سی میں قرارداد منظور کرا کے ورکنگ گروپ بنائیں، اتفاق رائے کے لیے ماہرین کو دیگر ملکوں میں بھیجیں گے، فلسطین میں ظلم، زیادتی کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی، اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کے آتے ہی ہمارے وفد نے واک آؤٹ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ مسلم امہ کا مؤقف ہمیں پوری قوت سے بیان کرنا ہے، پاکستان ترقی یافتہ اور خوشحال ہو گا تو ہماری آواز بھی مضبوط ہوگی، فلسطینیوں کی امداد کے لیے الخدمت فاؤنڈیشن نے بہت کام کیا۔
نواز شریف کا شرکاء سے خطاب
مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں پر بدترین ظلم ڈھایا جا رہا ہے، فلسطین میں جاری ظلم وستم دیکھ کر دل تڑپ جاتا ہے، ماؤں کی گود سے بچے چھین کر شہید کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جوظلم و بربریت غزہ میں جاری ہے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، اسرائیل نے فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے، اقوام متحدہ فلسطین کی صورتحال پر بےبس نظر آتاہے۔
نواز شریف نے کہا کہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں مسئلہ فلسطین بھر پور طریقے سے اجاگر کیا، وزیراعظم کے جنرل اسمبلی سے خطاب کو عالمی رہنماؤں نے بھی سراہا، اقوام متحدہ فلسطین سے متعلق قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کرا سکی۔
مولانا فضل الرحمان کا شرکاء سے خطاب
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظم نے اسرائیل کے قیام کو ناجائز قرار دیا، اسرائیل کے ناسور کا فیصلہ 1917 میں برطانوی وزیر خارجہ نے کیا، اسرائیل کے خلاف یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کی بحث پر تعجب ہوتا ہے، حماس مجاہدین کے حملے نے مسئلہ فلسطین کی نوعیت ہی بدل دی، دو ریاستی حل کا جواز شرعی ہے نہ سیاسی، نہ جغرافیائی طور پرممکن ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اب تک غزہ میں 50 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، امت مسلمہ نے جس غفلت کا مظاہرہ کیا اللہ کی نظر میں جرم ہے، ہم پاکستانی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں، ہم سے جنوبی افریقہ اچھا ہے جس نےعالمی عدالت میں کیس دائر کیا۔
جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ اقوام متحدہ نے اسرائیل کے خلاف قرارداد پاس کی، فلسطینی بھائی محض زبانی یکجہتی کے طلبگار نہیں۔
بلاول بھٹو کا شرکاء سے خطاب
چیئر مین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ قوتوں کو غلط فہمی ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک پیج پر نہیں، اے پی سی سے پیغام بھیج رہے ہیں کہ فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی جنگ لڑنے کے لیے تیار ہیں، سفارتی جنگ کے لیے تیار بھی ہیں، وزیراعظم نے اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر کا بائیکاٹ کیا اور اسے لیڈ کیا، تمام سیاسی جماعتوں کا تعاون وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے ساتھ ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ فلسطین کے مشن کے لیے پیپلزپارٹی کی ضرورت ہے تو ہم ساتھ ہیں، میڈیا، ڈپلومیسی،عالمی فورمز پر فلسطین کا مقدمہ لڑنا ہے، مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ اسرائیل فلسطین میں نسل کشی کررہا ہے، اسرائیل مغویوں کے ساتھ جو ظلم کر رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے، اسرائیل کے ظلم کے پیچھے ناپاک عزائم ہیں، یرغمالیوں کے نام لیکر حملے کرنا اسرائیل کا بہانہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطین، لبنان اور مصر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، پاکستان نے عالمی سطح پر صیہونی ایجنڈا بے نقاب کرنا ہے، صدرمملکت اور وزیراعظم کا کانفرنس کے انعقاد پر شکر گزار ہوں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے پر پورا پاکستان ایک پیج پر ہے، تمام سنجیدہ قوتیں مسئلہ فلسطین پر یکساں مؤقف رکھتی ہیں، مختلف چیلنجز درپیش ہیں لیکن مسئلہ فلسطین پر کسی سے پیچھے نہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا شرکاء سے خطاب
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے، اسرائیل نے ایک سال میں 85 ہزار ٹن بارود فلسطینیوں پر گرایا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا یہ انسانیت کے خلاف بدترین عمل ہے، عالمی برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ اسرائیلی مظالم کو روکے، اسرائیل نے صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا، 173 صحافی بھی مارے گئے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا، حماس دہشت گرد نہیں ایک قانونی تنظیم ہے، 2006 میں حماس الیکشن جیتی تھی، حماس لڑ رہی ہے تو جنیوا کنونشن کے مطابق لڑ رہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ میرا مطالبہ ہے پاکستان میں حماس کا دفتر ہونا چاہیے، 2 ریاستی حل قائداعظم کے موقف کی نفی ہے، ہمارا واضح نقطہ نظر ہے کہ فلسطین کی آزادی کی بات کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ناجائز طریقے سے یہودی بستیوں کے قیام کو نہیں مانتے، اسرائیل شکست کھا چکا ہے، اب عورتوں، بچوں کو مار رہا ہے، اسرائیل کو مسلم ممالک کی خاموشی نے طاقت فراہم کی ہے، اسلامی ممالک کے سربراہان کا اجلاس بلانا چاہیے۔
