ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحسن کا کہنا ہے کہ پچھلے کئی برس سے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے پیپر لیک ہو رہے ہیں۔
ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحسن نے سندھ ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں سینکڑوں بچوں نے ہم سے رابطہ کیا، سینکڑوں بچوں کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 8 ہزار فی بچہ لے کر 10 کروڑ روپے نجی یونیورسٹی کو ملے ہیں، 7 کروڑ روپے سے زیادہ میڈیکل ٹیسٹ کیلئے لیے گئے، بچوں کی جانب سے میں ایوان میں بھی آواز اٹھاؤں گا۔
خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ عدالت کے بڑے شکر گزار ہیں، ان بچوں کی فریاد پر دو کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں، ایف آئی اے اور ایم آئی ٹی پر مشتمل کمیٹی بنائی ہے، تحقیقات کرکے 15 دن میں جواب طلب کیا ہے۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ پورے سندھ میں 199 مارکس مختلف طلباء نے حاصل کیے، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ پیپر لیک ہوا تھا، آخر کار پیپر لیک کرنے والا مافیا ہے کون؟ پچھلے چار سے پانچ برس سے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے پیپر لیک ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپر فوٹو اسٹیٹ دکانوں پر سو روپے میں بیچے جارہے ہوتے ہیں، اب ظلم یہ ہے کہ میڈیکل بورڈز کے بھی پرچے لیک ہورہے ہیں، ایک انسٹیٹیوٹ کے 132 بچوں نے 199 نمبرز حاصل کیے ہیں، ان بچوں کے مستقبل کے لیے ہم کوشش کریں گے۔
