اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ مہنگائی تیزی سے نیچے آ رہی ہے اور معیشت اوپر جا رہی ہے۔
احسن اقبال نے ڈیٹا فیسٹ 2024 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے لیے خوشی کی بات ہے کہ میں پاکستان کے پہلےڈیٹا فیسٹ کی تقریب سے خطاب کر رہا ہوں، آج ہم ایک ایسی دنیا میں داخل ہو چکے ہیں جو انسانی تاریخ کی سب سے تیز ترین تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم وہ لوگ ہیں جنھوں نے تختی سے لے کر فائیو جی تک کا سفر دیکھا ہے، اس انقلاب کو جو چیز آگے بڑھائے گی وہ ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی ہوگی، ڈیجیٹل انقلاب برپا ہو چکا ہے، اور اس میں ترقی کا ایندھن ڈیٹا ہے، ڈیٹا ہی مصنوعی ذہانت کا بنیادی جز ہے، اور اس کی کوالٹی ہی کسی بھی اصول کی بنیاد ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان آج 2024 میں اپنے مستقبل کی سمت کا تعین کر رہا ہے، اور اس کے لیے ہمیں نہایت قابلِ بھروسہ ڈیٹا کی ضرورت ہے، جب ہم چوبیس سال بعد اپنی سو سالہ آزادی کا جشن منانے کی تیاری کریں گے، تو ہمارا سب سے زیادہ انحصار اسی ڈیٹا پر ہوگا۔
انکا کہنا تھا کہ کسی بھی قوم کی ترقی کے پیچھے مسلسل دس سال کی پالیسیاں ہوتی ہیں، جو ان کی ترقی کی راہ ہموار کرتی ہیں، ہم اگلے پانچ سالہ منصوبے پر کام کر رہے ہیں، جب میں نے 2014 میں بنائے گئے وژن 2025 کا مطالعہ کیا، تو لگا کہ ہم نے تب بھی وہی لکھا تھا جو مسائل ہمیں آج درپیش ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ 2017-18 میں ہم نے بجلی اور دہشت گردی کے مسائل پر قابو پایا تھا، ملک تیزی سے سی پیک کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا، مگر آج ہم پھر وہاں کھڑے ہیں جہاں 2013 میں تھے، معاشی میدان میں ترقی کے لیے ہمیں پالیسوں کے تسلسل کی ضرورت ہے، تبھی ترقی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ اور مظاہروں سے ملک ترقی نہیں کرتے، ہمیں پالیسیاں مستحکم کرنی ہوں گی، ہمیں ایک ’اسپیڈومیٹر ڈیٹا‘ کی ضرورت ہے، جس سے ہم ترقی کی سمت کو ناپ سکیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اسی طرح کاروبار کی ترقی کے لیے بھی ڈیٹا سیٹ کی ضرورت ہے اور اسے صحیح طریقے سے استعمال کرنا ضروری ہے، وہی قوم، بزنس یا فرد کامیاب ہوگا جو ڈیٹا کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
انکا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ آج یہاں نوجوان بڑی تعداد میں موجود ہیں، جو اسی ڈیٹا کے ذریعے اپنے مستقبل کا تعین کریں گے، ہر فرد میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ ڈیٹا کا صحیح استعمال کر سکے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل ایک ایسی میراتھن دوڑ میں شریک ہونے جا رہی ہے جس کی بنیاد جدید ٹیکنالوجی اور ڈیٹا پر ہے، ہمیں سوچنا ہوگا کہ آیا ہم یہ چوبیس سال لڑائی جھگڑوں میں ضائع کر دیں گے یا پاکستان کو 2047 تک ایک ٹریلین ڈالر معیشت بنا دیں گے، ہمیں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا، بلکہ مثبت طریقے سے استعمال میں لانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی تیزی سے نیچے آ رہی ہے اور معیشت اوپر جا رہی ہے، ہم نے تین دن پہلے شنگھائی تعاون تنظیم کی کانفرنس کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت پہلو پیش کیا ہے، اب ہمیں اپنی مثبت توانائیوں کے ساتھ پاکستان کو ایسا ملک بنانا ہے کہ دنیا ہماری صلاحیتوں کی معترف ہو۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آج کے نوجوانوں میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ 2047 تک پاکستان کو دنیا میں ایک بلند مقام پر لے جا سکیں، طلبہ کو صرف اپنا کورس نہیں پڑھنا چاہیے بلکہ لائبریریوں میں جا کر خود کو مختلف اسکلز سے آراستہ کرنا چاہیے، یہ دور انوویشن کا ہے، جو آج آپ پڑھ رہے ہیں، وہ کل تک پرانا ہو جائے گا، ہمیں وقت کے ساتھ ساتھ خود کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
واضح رہے کہ تقریب میں چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر، سیکریٹری منصوبہ بندی اویس منظور سمرا، چیف پاکستان ادارہ شماریات نعیم اظفر، وفاقی و صوبائی وزارتوں کے نمائندوں، اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
