Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

2018 کے بعد جو معاشی تباہی ہوئی وہ سب کے سامنے ہے، مولانا فضل الرحمن

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ 2018 کے بعد جو معاشی تباہی ہوئی وہ سب کے سامنے ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے سرگودھا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت میں آنے کیلئے پوری امت کو دعوت دیتا ہوں، نئے چیف جسٹس کو ویلکم کہتا ہوں، جو چلے گئے ہیں اللہ تعالی انکو خوش رکھے۔

انہوں نے کہا کہ جو نئے آئے ہیں اللہ تعالی انکو آئین و قانون پر چلائے، 56 نکات تھے جو حکومت نے پیش کئے، ہمارے 5 نکات ڈالے گئے اور 27 نکات کئے گئے، حکومت کی کوئی نئی آئینی ترمیم کی سوچ سامنے نہیں آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملنے اڈیالہ جانے کی بات قبل از وقت ہے، ٹی آئی سے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس پر احتجاج موخر کریں، حکومت کو کہا کہ آئینی ترمیم اس کانفرنس کے بعد لائی جائے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ 2018 کے بعد جو معاشی تباہی ہوئی وہ سب کے سامنے ہے، اس کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا، سب کوششوں میں لگے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سود کے معاملے میں شریعت کورٹ کا فیصلہ حتمی ہو گا جو 2028 سے نافذ العمل ہو گا، آئین میں ترمیم نے ایک فریق کے طور پر شرکت کی، اس میں تمام اپوزیشن کو آن بورڈ لیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملکی بہتری کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو ملکر کام کرنا ہو گا، حکومت میں جانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ اپوزیشن میں رہ کر ملک کی خدمت کرینگے، پی ٹی آئی کے مستقبل کا کیا ہو گا کہ سوال پر مولانا کا جواب کہ ہمیں اپنے مستقبل کا نہیں پتہ۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version