ستائیس ویں ترمیم کی منظوری کے لیے حکمران اتحاد تذبذب کا شکار ہو کے رہ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ستائیس ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر ن لیگ کی پیپلز پارٹی سے ہچکچاہٹ، جبکہ بلاول نے ایک بار پھر ستائیس ویں ترمیم منظور کرانے کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان کی طرف سے ستائیس ویں ترمیم کو دو ٹوک انکار نے حکومت کو پریشان کر دیا، جبکہ ن لیگ ستائیس ویں ترمیم کی منظوری کے لئے پیپلز پارٹی سے ایک قدم پیچھے ہٹ گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ واضح طور ستائیس ویں ترمیم پر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے، اعظم نذیر تارڑ سمیت متعدد سیئنر راہنما جسٹس منصور علی شاہ کو چیف جسٹس نہ بنانے پر پہلے ہی تحفظات رکھتے ہیں۔
ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے اندر سے ستائیس ویں ترمیم کے خدوخال پر تحفظات کا اظہار آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں ہیں جبکہ ستائیس ویں ترمیم کو لیکر اتحادیوں کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔
